خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 349 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 349

خطبات طاہر جلد۴ 349 خطبه جمعه ۱۹ راپریل ۱۹۸۵ء دیا کہ وہ دوسرے کو اپنی طرف سے یہ کہہ سکے کہ تمہارے دل میں ایمان نہیں ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خود خبر دی اور فرمایا کہ ہم جانتے ہیں کہ ان کے دلوں میں ایمان نہیں ہے۔ اس لئے تجھے ہم اختیار دیتے ہیں کہ ان سے کہہ دے کہ تم مومن نہیں ہو۔ مومن کا برعکس کا فر ہوتا ہے اور مسلم کا برعکس غیر مسلم ہوتا ہے۔ تو ان دونوں باتوں میں خدا تعالیٰ نے تفریق کی ہے۔ فرمایا ان سے کہہ دے کہ خدائے عالم الغیب نے خبر دی ہے کہ تمہارے دلوں میں ایمان داخل نہیں ہوا اس لئے مومن ہونے کا ادعا نہ کر وہاں اس کے باوجود تم سے مسلمان کہلانے کا حق ہم نہیں چھینتے ۔ قُولُوا أَسْلَمْنَا بے شک یہ کہتے چلے جاؤ کہ ہم مسلمان ہیں ۔ درآنحالیکہ کہ ایمان تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا۔ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ کسی شخص پر کوئی فتوی لگ جائے اور فی الحقیقت وہ فتوی درست نہ ہو تو جاننا چاہئے کہ اس معاملہ میں انسان کے لئے کوئی خوف ہی نہیں ہے کیونکہ اگر کوئی آدمی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتا ہے تو خدا وعدہ فرماتا ہے کہ اس کے اعمال میں سے کچھ بھی ضائع نہیں ہونے دے گا اور پھر ایسا خدا جو بہت غفور ہو اس سے تو یہ توقع کی ہی نہیں جاسکتی کہ کسی انسان کے فتوی کے نتیجہ میں یا کسی غلط فتوی کے نتیجہ میں کسی دوسرے انسان کے اعمال ضائع کر دے جبکہ وہ مخلص ہے پس یہ تو ایک منفی اعلان ہے یعنی بعض لوگوں کی منفی عادات یا منفی خصائل سے تعلق رکھنے والا اعلان ہے۔ پھر اس کے ساتھ ایک مثبت اعلان بھی فرمادیا کہ مومنوں کی تعریف تو یہ ہے کہ جب وہ اللہ اور رسول پر ایمان لاتے ہیں تو شک نہیں کرتے اور لازما اپنے اموال اور اپنی جانوں سے خدا کی راہ میں ہمیشہ جہاد کرتے چلے جاتے ہیں۔ اس تعریف کی رو سے مومن کی زندگی میں کوئی بھی ایسا وقت نہیں آتا جب وہ مال اور جان کے جہاد میں مصروف نہ ہو۔ اور اسی طرح مومن کی اجتماعی زندگی میں بھی کوئی ایسا زمانہ نہیں آتا جب کہ وہ جانی اور مالی جہاد نہ کر رہا ہو۔ فرمایا یہ وہ لوگ ہیں جو سچے ہوتے ہیں اور سچے کہلا سکتے ہیں کیونکہ ان کے اندر ایمان کی ایسی نشانیاں پائی جاتی ہیں جو انہوں نے اپنے اعمال سے سچی ثابت کر دکھا ئیں ۔ صلى الله پس یہ تمام باتیں جو ان آیات میں بیان کی گئی ہیں خدا تعالیٰ نے خود آنحضرت ﷺ کو بتائیں ۔ پہلی بات یہ کہ اگر چہ منع فرمایا گیا کہ تم اپنے آپ کو مومن نہ کہو کیونکہ خدا کے نزدیک تم مومن