خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 144
خطبات طاہر جلد ۴ 144 خطبه جمعه ۱۵ فروری ۱۹۸۵ء اس کا ترجمہ یہ ہے کہ خبردار ہر قسم کے امتیازات اور خون اور مال جس کی طرف بلایا جاتا تھا یعنی جس کی وجہ سے لڑائی کی طرف بلایا جاتا تھا وہ آج میرے دونوں پاؤں کے نیچے ہیں۔ آپ صلى الله صلى الله علیه جانتے ہیں کہ آنحضور ﷺ نے یہ اعلان کب فرمایا تھا۔ آپ ﷺ نے یہ اعلان حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا تھا اور یہ آپ کا آخری اعلان ہے۔ پس دیکھئے کس طرح باتوں کو توڑ مروڑا گیا ہے۔ یہ نہ ڑا ناممکن ہے کہ ایک عالم دین کو اس کی خبر نہ ہو کہ یہ اعلان کسی موقع کا ہے اور وہ کس زمانہ میں لے جا کر اس کو چسپاں کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کا اعلان کر کے تمام موروثی امتیازات کا خاتمہ کر دیا۔ عزت و اقتدار کے تمام رسمی بتوں کو توڑ دیا ، ملک میں ایک منظم اور منضبط حکومت قائم کر دی ، اخلاقی قوانین کو بزور نا فذ کر کے اس بدکاری و گناہگاری کی آزادی کو سلب نافذ کر کر لیا جس کی لذتیں ان کو مدہوش کئے ہوئے تھیں اور وہ پرامن فضا پیدا کردی جو اخلاقی فضائل اور انسانی محاسن کے نشوونما کے لئے ہمیشہ ضروری و ہوا کرتی ہے۔ ( الجهاد فی الاسلام صفحه : ۱۴۲) اسی بات کو آسبرن یوں کہتا ہے کہ بیواؤں اور یتیموں کی دردناک چیخوں کے درمیان اپنے دین کی اشاعت کی اس کے بعد تو رونے اور چلانے والوں کو آخر نیند آ جایا کرتی ہے۔ اس کا نام مودودی صاحب نے رکھا ہے تسکین (یعنی کہ گویا اب کوئی مخالف آواز نہیں اٹھ رہی ) چنانچہ مودودی صاحب آگے چل کر کہتے ہیں: تو دلوں سے رفتہ رفتہ بدی و شرارت کا زنگ چھوٹنے لگا ، طبیعتوں سے فاسد مادے خود بخود نکل گئے ، روحوں کی کثافتیں دور ہو گئیں۔ قوت قدسیہ سمجھانا، تذکیر، دعا ئیں جب اثر پیدا کرنے میں کلیہ ناکام ہو گئیں (نـــعــود بالله من ذالك ) تو بقول مودودی صاحب اس وقت تلوار چلی جس نے یہ سارے کام کر دکھائے اور صرف یہی نہیں کہ آنکھوں سے پردہ ہٹ کر حق کا نورصاف عیاں ہو گیا۔ کونسا پردہ؟ اس کے متعلق قرآن کریم فرماتا ہے :