خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 143 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 143

خطبات طاہر جلد ۴ 143 خطبه جمعه ۱۵ فروری ۱۹۸۵ء سے انکار کر دیا۔ حق ان کے سامنے خوب ظاہر ہو چکا تھا۔ انہوں نے برای العین دیکھ لیا تھا کہ جس راہ کی طرف ان کا ہادی انہیں بلا رہا ہے وہ سیدھی راہ ہے۔ اس کے باوجود صرف یہ چیز انہیں اس راہ کو اختیار کرنے سے روک رہی تھی کہ ان لذتوں کو چھوڑ نا انہیں ناگوار تھا جو کافرانہ بے قیدی کی زندگی میں انہیں حاصل تھیں ۔ لیکن جب وعظ و تلقین کی ناکامی کے بعد “ الجهاد فی الاسلام - با رسوم ۱۹۶۲ ء صفحه ۱۴۱-۱۴۲) صلى الله یعنی نعوذ بالله من ذالك آنحضرت لو ت وعظ و تلقین میں ناکام ہو گئے ۔ کیسی جاہلانہ ، خوفناک اور ظالمانہ بات ہے جو مولوی مودودی کے قلم سے جاری ہو رہی ہے اور وہ کوئی خوف نہیں کر رہے۔ اس آواز کو سنیں اور قرآن کریم کی اس آواز کو سنیں فَذَكِّرُ إِنْ نَّفَعَتِ الذِّكْرى ( الاعلیٰ : ۱۰) اے محمد ! تو نصیحت کرتا چلا جا کیونکہ یقیناً تیری نصیحت نا کام نہیں ہو سکتی تیرے انداز اور ہیں ، تیری نصیحت میں ایک ایسی قوت ہے جو نا کامی کا منہ نہیں دیکھ سکتی اور اگر تیری نصیحت کے باوجود کوئی نہیں مانتا تو ہم تجھے زبردستی کی اجازت نہیں دیتے۔ إِنَّمَا أَنْتَ مُذَكِّرُ لَسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُضَيْطِرِ إِلَّا مَنْ تَوَلَّى وَكَفَرَ فَيُعَذِّبُهُ اللَّهُ الْعَذَابَ الْأَكْبَرَ ( الغاشية : ۲۲-۲۵) کہ تیری نصیحت میں حسن ہے، پیار ہے، ملاحت ہے، تیری باتیں دل نشین ہیں اور ہو نہیں سکتا کہ وہ اثر نہ کریں ہم تجھے اس بات کا یقین دلاتے ہیں لیکن اگر کوئی بد قسمت ان سے منہ موڑے اور انہیں قبول نہ کرے تو ہم تجھے زبردستی کرنے کی اجازت نہیں دیتے ، ہم نے تجھے داروغہ نہیں بنایا ، تو صرف مذکر ہے إِلَّا مَنْ تَوَلَّى وَكَفَرَ پھر جو کوئی انکار کرے گا ہم اسے پکڑیں گے اور اسے سزا دیں گے۔ یہ تو کلام اللہ ہے اور وہ کلام مودودی ہے جو یہ کہہ رہا ہے کہ جب وعظ و تلقین کی ناکامی (إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَجِعُونَ ۔ دکھ کے باعث یہ فقرہ پڑھا نہیں جاتا ) و لیکن جب وعظ و تلقین کی ناکامی کے بعد داعی اسلام نے ہاتھ میں تلوار لی اور الا كل مأثرة أو دم أو مال يُدعى فهو تحت قد مي هاتين 66