خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 141
خطبات طاہر جلد ۴ 141 خطبه جمعه ۱۵ فروری ۱۹۸۵ء یہ ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا کلام اور یہ ہے آپ کا تصور جہاد اور پھر اس پر عمل درآمد۔ اس زمانہ کے کسی عالم دین کی ایک آواز بھی آپ کو نہیں ملے گی جس کو اتنی جرات ہو کہ ملکہ وکٹوریہ کو سوائے خوشامدی الفاظ کے خطاب کر سکے ۔ ” پس تو بہ کر“ کے الفاظ تو اس زمانہ کی سلطنت کے لئے ایک بم کا درجہ رکھتے تھے۔ یہ بہت عظیم الشان کلام ہے اور بڑے واضح الفاظ میں ملکہ وکٹوریہ کو اسلام کی دعوت دی ہے اور اس جھوٹے دین سے توبہ کرنے کی دعوت دی ہے اور اسلام کی طرف بلایا ہے اور یہی وہ جہاد کا جذبہ ہے، یہی وہ روح جہاد ہے جس کو سمجھنے کے نتیجہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنی جماعت کو ایک نہ ختم ہونے والے جہاد کے رستہ پر ڈال دیا ہے اور دن رات بلکہ ہمارا ہر لمحہ جہاد بن گیا ہے۔ چنانچہ پاکستان کے ایک نامور مورخ شیخ محمد اکرام صاحب اس بات کو محسوس کرتے ہوئے اپنی کتاب میں لکھتے ہیں: دنیا کے مسلمانوں میں سب سے پہلے احمدیوں نے اس حقیقت کو پایا کہ اگر چہ آج اسلام کے سیاسی زوال کا زمانہ ہے لیکن عیسائی حکومتوں میں تبلیغ کی اجازت کی وجہ سے مسلمانوں کو ایک ایسا موقع بھی حاصل ہے جو مذہب کی تاریخ میں نیا ہے اور جس سے پورا پورا فائدہ اٹھانا چاہئے“۔ پھر فرماتے ہیں : وو ” عام مسلمان تو جہاد بالسیف کے عقیدے کا خیالی دم بھرتے ، نہ عملی جہاد کرتے ہیں نہ تبلیغی جہاد لیکن احمدی ۔۔۔۔۔۔۔ دوسرے جہاد یعنی تبلیغ کو فریضہ مذہبی سمجھتے ہیں اور اس میں انہیں خاصی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ ( موج کوثر صفحہ:۱۷۹) آخر پر میں آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے تصور جہاد اور مولوی مودودی صاحب کے تصور جہاد کا ایک موازنہ کر کے دکھاتا ہوں ۔ ایک بات تو یہ ہے کہ ان علماء کے دو تصور ہیں ۔ انگریزی حکومت کے دوران جو باتیں وہ کرتے تھے وہ اور ہیں اور جب وہ حکومت ختم ہوگئی تو پھر وہ جو باتیں کرتے ہیں وہ اور ہیں ، گویا ان کے ہر چیز میں دو پیمانے ہیں۔ آنحضرت ﷺ کی صلى الله عروسه طرف وہ ایسا خوفناک تصور جہاد منسوب کرتے ہیں کہ ایک غیرت مند مسلمان اس کو سن کر اذیت میں