خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 140 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 140

خطبات طاہر جلد ۴ 140 خطبه جمعه ۱۵ فروری ۱۹۸۵ء غور و فکر کی آنکھ سے سلطنت کے امور سرانجام دیتی ہے اس آنکھ سے اسلام کے بارے میں غور کیوں نہیں کرتی ۔ سخت تاریکی کے بعد اب جبکہ آفتاب طلوع ہو چکا ہے تو کیا اب بھی تو نہیں دیکھتی۔ تو جان لے (اللہ تیری مدد کرے ) یقینا دین اسلام ہی انوار کا مجموعہ ہے، نہروں کا منبع اور پھلوں کا بستان ہے۔ تمام ادیان اسی کا ایک حصہ ہیں۔ پس تو اس کی خوبصورتی کو دیکھ اور ان لوگوں میں سے ہو جا کہ جو اس سے با فراغت رزق دیئے جاتے ہیں اور اس کے باغات سے کھاتے ہیں۔ یقیناً یہ دین ہی زندہ ہے، برکات کا مجموعہ اور نشانات کا مظہر ہے جو پاکیزہ باتوں کا حکم دیتا ہے اور بدیوں سے روکتا ہے اور جو کوئی اس کے خلاف کہتا ہے یا نافرمانی کرتا ہے وہ نامراد رہتا ہے ۔اے معزز ملکہ ! دنیاوی نعماء کے لحاظ سے خدا کا بہت بڑا فضل تجھ پر ہے۔ پس اب تو آخرت کی بادشاہت میں بھی دلچسپی پیدا کر اور توبہ کر اور اس خدائے واحد و یگانہ کی فرمانبرداری اختیار کر کہ نہ تو اس کا کوئی بیٹا ہے اور نہ ہی بادشاہت میں اس کا کوئی شریک ۔ پس تو اسی کی بڑائی بیان کر۔ کیا تم اس کے علاوہ معبود بناتے ہو ان کو جو کوئی چیز پیدا نہیں کر سکتے اور وہ خود پیدا کئے گئے ہیں۔ پس اگر تو کسی شک میں ہے تو آج میں اس کی سچائی کے نشانات دکھانے کو تیار ہوں۔ وہ ہر حال میں میرے ساتھ ہے۔ جب میں اسے پکارتا ہوں تو وہ میری پکار کا جواب دیتا ہے اور جب اسے بلاتا ہوں تو میری مدد کو پہنچتا ہے اور جب اس سے مدد کا طلبگار ہوتا ہوں تو میری نصرت فرماتا ہے اور میں یقین رکھتا ہوں کہ وہ ہر مقام پر میری مدد فرمائے گا اور مجھے ضائع نہیں کرے گا۔ پس کیا تو جزاء وسزا کے دن کے خوف سے میرے نشانات اور صدق وسداد کے ظہور کو دیکھنا پسند کرے گی ۔ اے قیصرہ ! تو بہ کر ، توبہ کر اور سن تا کہ خدا تیرے مال میں اور ہر اس چیز میں جس کی تو مالک ہے برکت بخشے اور تو ان لوگوں میں سے ہو جائے جن پر خدا کی رحمت کی نظر ہوتی ہے۔ ( آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۵۳۰ تا ۵۳۳ ترجمه از عربی عبارت )