خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 1000
خطبات طاہر جلد ۴ 1000 خطبه جمعه ۲۰ دسمبر ۱۹۸۵ء اور عجیب شان ہے قرآن کریم کی کہ بنی اسرائیل سے یہ وعدہ تھا کہ تمہیں دو دفعہ زمین میں فساد کا موقع ملے گا اور دو دفعہ تم علو اختیار کرو گے اور دو ہی مرتبہ قرآن کریم میں حضرت محمد صلى الله مصطفی ﷺ کے غلاموں کو اعلیٰ ہونے کی خوشخبری دی گئی ہے۔ فرمایاوَ لَا تَهِنُوا وَ لَا تَحْزَنُوا علیم وَ أَنْتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ (آل عمران: ۱۴۰) اے محمد مصطفیٰ علی کے غلامو ! تم ہرگز تھک نہ جانا ، سستی نہ اختیار کرنا وَ لَا تَحْزَنُوا اور جو کچھ تمہیں دکھ دیئے جا رہے ہیں یا نقصان پہنچایا جا رہا ہے ان پر غم نہ کرنا وَ اَنْتُمُ الْأَعْلَوْنَ تم اعلیٰ ٹھہرو گے اور تمہارے مقابل دشمن لا ز ما رسوا اور ذلیل کئے جائیں گے اِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ شرط یہ ہے کہ تم مومن ٹھہرنا۔ پھر دوسری جگہ فرمایا فَلَا تَهِنُوا وَ تَدْعُوا إِلَى السَّلْمِ وَانْتُمُ الْأَعْلَوْنَ * وَاللهُ مَعَكُمْ وَلَنْ يَتِرَكُمْ أَعْمَالَكُمْ (محمد :(٣٦) کہ دیکھو سست نہ ہو جانا ایسی حالت میں کہ ستی تمہیں مجبور کر دے کہ کمزوری کی وجہ سے صلح کے لئے ہاتھ بڑھاؤ صلح کے لئے ہاتھ بڑھانا اچھی چیز ہے لیکن بزدلی اور کمزوری کے نتیجے میں صلح کے لئے ہاتھ بڑھانا یہ بہت مکروہ فعل ہے جس سے خدا تعالیٰ امت محمدیہ کو منع فرما رہا ہے ۔ وَ اَنْتُمُ الْأَعْلَوْن اور پھر تمہیں ضرورت بھی کیا ہے۔ ایک با غیرت آدمی تو مٹ جانا پسند کرتا ہے بجائے اسکے کہ کمزوری کے نتیجے میں ہاتھ بڑھائے صلح کی خاطر ، امن کی خاطر صلح کا پیغام دینا یا دنیا میں اصلاح کے لئے اپنے دشمن کو معاف کر دینا یہ بالکل اور بات ہے لیکن کمزور ہو کر جان بچانے کے لئے صلح کے لئے ہاتھ بڑھانا یہ ایک ایسی بزدلی ہے جو قرآن کریم سے پتہ چلتا ہے کہ امت محمدیہ کو زیب نہیں دیتی لیکن ساتھ یہ بھی فرمایا وَ انْتُمُ الْأَعْلَوْنَ یعنی حد ہو گی بے وقوفی اور حماقت کی کہ تم یہ کمزوری دکھا جاؤ جبکہ تمہیں وعدہ ہے کہ تم اعلی قرار دیئے جاؤ گے تم نے لازما غالب آنا ہے وَ اللهُ مَعَكُمْ خدا تمہارے ساتھ ہے تمہیں کیا خوف ہے غیر اللہ کا کیا خوف ہے وَلَنْ يَتِرَكُمْ أَعْمَلَكُمْ وہ ہر گز تمہارے اعمال کو ضائع نہیں کرے گا۔ صلى الله علوس تو جن بنی اسرائیل کو دو دفعہ جھوٹے علو کا موقع دیا جائے گا کہ وہ تمام دنیا میں خدا کے بندوں کو مغلوب کر دیں ان کے مقابل پر دو ہی مرتبہ حضرت محمد مصطفی ﷺ کے غلاموں کو یہ خوش خبری دی گئی ہے اور آنحضرت ﷺ کے مقام کی عظمت کا بھی اس سے اظہار ہوتا ہے۔ انبیاء میں سے صرف حضرت موسی کو چنا گیا یہ کہنے کے لئے کہ تم اعلیٰ ٹھہرو گے ۔ مگر یہاں محمد رسول اللہ ﷺ کو