خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 754
خطبات طاہر جلد ۳ 754 خطبه جمعه ۲۱ دسمبر ۱۹۸۴ء پہلے بھی ایسے لوگ آئے تھے اور ان کے مقابل پر انبیاء کے حق میں جو سنت ہم نے جاری فرمائی وہی سنت اب بھی جاری ہوگی وَلَا تَجِدُ لِسُنَّتِنَا تَحْوِیلا اور تو کبھی بھی ہماری سنت میں کوئی تبدیلی نہیں دیکھے گا۔ نہ پہلے یہ تبدیل ہوئی تھی نہ آج ہوئی ہے نہ آئندہ کبھی تبدیل ہوگی۔ پس کتنا روشن مستقبل ہے جماعت ا جماعت احمدیہ کا جو کلام الہی ہمارے سامنے پڑھ کر ہمیں سنا رہا الله عليسة۔ ہے۔ وہ کلام ہمیں سنا رہا ہے جو حضرت محمد مع جو حضرت محمد مصطفی کے مطہر اور مقدس دل پر نازل ہوا ، وہ کلام ہمیں یہ مستقبل سنا رہا ہے، شاندار مستقبل کی نوید دے رہا ہے جس کلام سے زیادہ مطہر کلام ، جس کلام سے زیادہ یقینی اور قطعی کلام کبھی کسی نبی کے دل پر نازل نہیں ہوا۔ وہ کلام جس کا پہلا دعویٰ یہی ہے لَا رَيْبَ فِيهِ ( البقرہ:(۳) اس میں کوئی شک نہیں کسی قسم کے وہم کی گنجائش تک نہیں ۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ تو حضرت محمد مصطفیٰ اے مخاطب ہیں ہم تو ادنی چاکر آپ کے غلامان در کے بھی غلامان در کے بھی غلام ہیں ہمیں کیسے یقین ہو کہ خدا کا یہ طریق جو انبیاء کے ساتھ جاری ہے وہ ہمارے ساتھ بھی ہوگا ؟ ہم کیسے یہ کامل یقین رکھ سکتے ہیں کہ وہ غیر مبدل سنت جو اللہ تعالیٰ اپنے انبیاء کی محبت میں ان کی غیرت کے لئے دکھایا کرتا ہے آج ہم ادنی غلاموں کے لئے بھی ویسی ہی دکھائے گا ؟ یہ ایک سوال باقی رہ جاتا ہے۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ان آیات میں سے جو پہلی آیت میں نے تلاوت کی تھی مضمون یہاں مکمل ہوا ہے اور اسی میں ان تو ھمات کا جواب دے دیا ہے۔ فرمایا يَوْمَ نَدْعُوا كُلِّ أُنَاسٍ بِإِ مَا مِهِمْ ہم قوموں سے ان کے آئمہ والا سلوک کیا کرتے ہیں، قیامت کے دن بھی یہی سلوک ہوگا اور دنیا میں بھی تم سے وہی سلوک ہوگا جو تمہارے امام کے ساتھ خدا کرتا چلا آیا ہے۔ تم بچائے جاؤ گے تو محمد مصطفیٰ" کی برکت سے بچائے جاؤ گے تم کامیاب کئے جاؤ گے تو محمد رسول اللہ کی برکت سے کامیاب کئے جاؤ گے تم دونوں جہانوں میں سرخرو بنائے جاؤ گے تو اپنے آقا و مولی محمد مصطفیٰ" کے قدموں کی برکت سے دونوں جہانوں میں سرخرو بنائے جاؤ گے۔ پس اس امام کو کبھی نہ چھوڑنا ، اس امام کو کبھی نہ چھوڑنا اس میں دنیا کی فلاح بھی تمہارے لئے وابستہ ہے اور آخرت کی فلاح بھی اسی میں مضمر ہے۔ گیا وج