خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 753 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 753

خطبات طاہر جلد ۳ 753 خطبه جمعه ۲۱ دسمبر ۱۹۸۴ء اب وہ آواز جو چودہ سو سال پہلے مکہ میں محمد مصطفیٰ ﷺ کے دشمن بلند کر رہے تھے کہ سیدھے ہوتے ہو کہ نہیں ۔ سینے سے لگنا ہے تو اپنے مسلک کو چھوڑ دو ورنہ اس وطن کو چھوڑ دو جو ہمارا ۔ وطن ہے، وہی آواز آج پاکستان سے اٹھائی جا رہی ہے۔ ایک ذرہ کا بھی فرق نہیں ۔ حیرت ہوتی ہے ۔ ہے کہ جب خدا تعالیٰ انسانوں کو اندھا کر دیتا ہے تو پھر کچھ بھی دیکھ نہیں سکتے کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں کسی پہنچ پر کلام کر رہے ہیں؟ انبیاء والی باتیں کر رہے ہیں یا انبیاء کے دشمنوں والی باتیں کر رہے ہیں؟ فرماتا ہے : لِيُخْرِجُوكَ مِنْهَا وَإِذًا لَّا يَلْبَثُونَ خِلْفَكَ إِلَّا قَلِيلًا مگر یہ لوگ کس خیال میں بیٹھے ہوئے ہیں اے محمد (ﷺ) اگر یہ تجھے نکالنے میں کامیاب ہو گئے تو ہم تجھے بتاتے ہیں کہ (علی تیرے بعد پھر یہ خود بھی نہیں رہیں گے، تیری وجہ سے یہ لوگ قائم ہیں، تیرے بعد پھر یہ بھی صفحہ ہستی صلى الله عروسه سے مٹا دیئے جائیں گے۔ جہاں سے تو نکالا جائے گا وہاں یہ بھی بسنے کے لائق نہیں رہیں گے۔ یا پھر دوسرا معنی یہ ہوگا کہ لا يَلْبَثُونَ خِلْفَكَ إِلَّا قَلِيلًا یا پھر ان کو جلدی تو به کرنی پڑے گی تھوڑے دن ہی تیری مخالفت کریں گے اور اس کے بعد اگر باز آگئے پھر یہ بچ جائیں گے۔ یہ دونوں معانی نکل سکتے ہیں اس کے تو اب اس قوم کے بچنے کی صرف یہ صورت ہے کہ یا تو وہ تجھے تسلیم کر لیں اور تجھے اپنے مسلک سے ہٹانے کے بجائے تیرے مسلک کو اختیار کر لیں اور پھر اللہ تعالیٰ ان کو بچالے گا ، انکے لئے نجات کے سامان پیدا فرمائے گا اگر نہیں تو ظلم کی راہ سے نکالنے والوں کے لئے ان کے اپنے وطن کی زمین تنگ کر دی جائے گی۔ سُنَّةَ مَنْ قَدْ أَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنْ رُّسُلِنَا وَلَا تَجِدُ لِسُنَّتِنَا تَحْوِيلًا یہ وہ سنت ہے جو ہم نے انبیاء کے لئے تجھ سے پہلے جاری فرمائی یعنی خدا تعالیٰ حضرت حمد مصطفیﷺ کو مخاطب کر کے فرما رہا ہے کہ ہم جو یہ باتیں کہتے ہیں یہ کوئی نئی بات نہیں ہے ہمیشہ سے اسی طرح ہوتا چلا آیا ہے، ہمیشہ سے انبیاء نے یہی طریق اختیار کیا جو تو نے اختیار کر رکھا ہے۔ صبر اور خدا سے دعاؤں کے ذریعہ ثبات مانگنے کا طریق اور ہمیشہ سے مخالفین نے یہی دھمکیاں دیں اور یہی طریق اختیار کئے۔ کبھی وہ کہتے تھے ہٹ جاؤ اور ہمارے سینوں سے لگ جاؤ ، کبھی وہ کہتے تھے کہ ہم تو ظلم و تشدد کی انتہا کر دیں گے اور جب دونوں باتوں میں پیش نہیں جاتی تھی تو یہ کہا کرتے تھے کہ اچھا تمہیں ہم اپنی زمین سے نکال دیں گے تو یہاں تمہارے لئے کوئی گنجائش نہیں۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ