خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 627
خطبات طاہر جلد ۳ 627 خطبه جمعه ۲ نومبر ۱۹۸۴ء ہو اور گندے کلام کرتے ہو ۔ كَفَی بِهِ شَهِيدًا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ میرے اور تمہارے درمیان وہی کافی ہے گواہ اللہ جو بہتر جانتا ہے کہ اس نے مجھے بھیجا ہے یا نہیں بھیجا وَهُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ (الاحقاف: ۹) اور بہت مغفرت کرنے والا اور بہت رحم کرنے والا ہے۔ منہ - پھر فرماتا ہے وَيْلٌ لِكُلِّ أَفَاكٍ أَثِيو جھوٹا کون ہے گناہ گار کون ہے ۔ يَسْمَعُ أَيْتِ اللهِ تُتْلَى عَلَيْهِ ثُمَّ يُصِرُّ مُسْتَكْبِرًا كَأَن لَّمْ يَسْمَعُهَا ۚ فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ الیم افاک اور اثیم جو کہنے والے ہیں ان کی خدا تعالی تعریف بتاتا ہے کہ افاک اور اثیم ہمارے نزدیک کون ہوا کرتا ہے؟ فرماتا ہے وہ جو اللہ کے نشانات کو سنتا ہے پھر تکبر کرتے ہوئے پیٹھ پھیر کر ہ موڑ لیتا ہے اور اصرار کرتا ہے اصرار کرتا ہے اپنے تکبر پر اس طرح طرز عمل اختیار کرتا ہے جیسا اس نے کچھ سناہی نہیں۔ اس کو عذاب الیم کی خوش خبری دے دو۔ وَ إِذَا عَلِمَ مِنْ ايْتِنَا شَيْئًا اتَّخَذَهَا هُزُوا اور دوسری علامت ان لوگوں کی وہ ہے کہ خدا کے کلام کی باتیں ہو رہی ہوتی ہیں۔ یہ بحث ہوتی ہے کہ اللہ نے کسی سے کچھ کہا یا نہیں کہا وہ کوئی تمسخر کا وقت تو نہیں ہے۔ فرماتا ہے ایسے موقع پر یہ تمسخر شروع کر دیتے ہیں اور یہ ایک ایسی عادت مستمرہ ہے جھوٹے لوگوں کی کہ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر آنحضرت کے وقت تک کی جو تاریخ قرآن نے محفوظ فرمائی اس میں ایک بھی استثناء قرآن نہیں بتاتا ۔ انبیاء استہزا نہیں کرتے ان سے، جب وہ قرآن کی باتیں کرتے ہیں وہ سنجیدگی سے ان کو جواب دیتے ہیں، جب وہ پہلی کتابوں کی باتیں کرتے ہیں وہ سنجیدگی سے ان کو جواب دیتے ہیں ، جب وہ مذہب اور دین اور آخرت اور ان سنجیدہ امور کی گفتگو کرتے ہیں حوالے دیگر کتب سے جن کا انسان کی زندگی اور مابعد الموت سے تعلق ہے تو وہ بڑی سنجیدگی سے اس کلام کا جواب دیتے ہیں لیکن ایک گروہ ایسا ہے جو تمسخر سے پہچانا جاتا ہے، گندی گالیاں دینے والا، جھوٹ بولنے والا اور تمسخر کرنے والا ۔ فرمایا یہ وہ لوگ ہیں أُولَئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِينٌ (الجاثیہ: ۸-۱۰) ان کے لئے مُّهِينٌ عذاب مقرر ہے۔ مھین سے مراد ہے جو چھوٹا کر دینے والا ذلیل اور رسوا کر دینے والا ۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام کو بھی اللہ تعالیٰ نے الہا ما فرمایا ہے : إِنِّي مُهِينٌ مَنْ أَرَادَ اهانتک ( تذکرہ صفحہ: ۲۷) میں اسے ذلیل و رسوا کروں گا جو تجھے ذلیل و رسوا کرنے کا ارادہ کرتا