خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 529
خطبات طاہر جلد ۳ 529 خطبه جمعه ۲۱ ستمبر ۱۹۸۴ء عليسة۔ عورت کی زبان بے لگام ہو جائے اور یہ سب کچھ اسلام کے نام پر اور ناموس محمد مصطفی اللہ کے نام پر کیا جا رہا تھا پھر یہ جلوس بازار سے گالیاں دیتا اور نہایت گندے بھنگڑے ڈالتا ہوا گزرا۔ اس وقت ہمارا کلیجہ شق ہوا جاتا تھا لیکن ہم نے آپ کے جانے سے پہلے آپ کے ہاتھ پر صبر کی بیعت کی تھی اور اس بیعت کو ہم بھولے نہیں تھے اور خدا کو حاضر ناظر جان کر یہ اقرار کیا تھا کہ ہم آپکی اطاعت سے باہر نہیں نکلیں گے لیکن جو اس وقت اہل ربوہ کی حالت تھی وہ نا قابل بیان ہے۔ اچانک اس وقت میری نظر ایک غریب بوڑھے کھوکھے والے پر پڑی جو اس نظارے کو دیکھ دیکھ کر رو رو کر نڈھال ہوا جاتا تھا اور اس کے بدن پر شدت گریہ سے رعشہ طاری تھا ، یہ دیکھ کر دل قابو میں نہ رہا اور میں دوڑتا ہوا گھر چلا گیا تا کہ تنہائی میں اپنے مولی کے حضور اپنے دل کا غبار نکال سکوں ۔ یہ وہ کیفیت ہے وَلِتَسْتَبِينَ سَبِيلُ الْمُجْرِمِينَ اتنا گند اور بغض کھل کر باہر آگیا ہے کہ ناممکن ہے کہ کوئی نفس جس میں شرافت کی رمق باقی ہو وہ اس گند کو پہچان نہ سکے کیونکہ آنحضرت کی طرف منسوب ہو کر اس قسم کی غلاظت ، اس قسم کی بے حیائی تو کوئی عام مسلمان بھی تصور میں عروسه نہیں لاسکتا اور یہ صرف ربوہ کا حال نہیں سارے پاکستان میں ایک عجیب حالت میں سے جماعت گزر رہی ہے۔ ایک دوست جو پہلے شاعر نہیں تھے ان کو اس غم کی حالت نے شاعر بنا دیا ہے لیکن یہ ایک ہی نہیں ایسے بکثرت خطوط آتے ہیں جن میں ایسے لوگ جنہوں نے کبھی بھی کوئی نظم نہیں کہی تھی وہ درد کی شدت اور عشق کے معراج کے باعث شاعر بن بیٹھے ہیں، بن گئے ہیں کہنا چاہے۔ بعضوں کو وزن بھی نہیں آتا لیکن ان کے کلام میں صداقت نے سچائی نے اتنا گہرا اثر کر دیا ہے کہ شعریت اور نمگی گویا ان کے اندر اللہ نے ودیعت کر دی ہے۔ ایک صاحب نے ایک سرائیکی کی نظم بھیجی ہے اور اس نظم کا بھی ایک عجیب حال ہے۔ بہت ہی گہرا اثر رکھنے والی نظم ہے لیکن سرائیکی مجھے پوری طرح نہیں آتی اس لئے انہوں نے ترجمہ بھی ساتھ کیا ہے۔ میں اپنے ترجمے کے چند کلمات سناتا ہوں ۔ کہتے ہیں : آج تک اتنی اداسی اور غمگینی نہیں ہوئی ۔ دل سے ٹھنڈی آہیں نکلتی ہیں اور زار و قطار رونا آتا ہے۔ دکھوں بھرا دل اور گھٹی گھٹی روح تڑپ رہی ہے۔ آپ نے تو اوروں کے وطن قیام کو طول دے دیا۔ چپ چاپ ربوہ جیسے رات کا سناٹا طاری ہو، ہونٹ سختی سے سلے ہوئے ہیں مگر دل میں ایک