خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 528 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 528

خطبات طاہر جلد ۳ 528 خطبه جمعه ۲۱ ستمبر ۱۹۸۴ء میں اپنے ایمان کو دلائل کے ذریعہ گدلا نہیں کرنا چاہتا تھا۔ میں نہیں چاہتا تھا کہ دلائل کی میل میرے ایمان میں داخل ہو جائے ، مجھے تو صداقت صاف نظر آرہی تھی ۔ السيرة الحلبیہ جلد اول نصف آخر صفحه : ۲۱۶) اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی کے واقعات بھی ہیں ۔ بعض صحابہ سے میں نے خود سنا ہے کہ ہم نے تو کوئی دلیل نہیں سنی نہ کسی دلیل کی ضرورت سمجھی۔ قادیان گئے تھے بعض لوگوں نے ہمیں بتایا کہ اس طرح دعویدار پیدا ہوا ہے اور پہلی نظر جو اس چہرے پر پڑی ہے اسی نظر نے گواہی دے دی کہ یہ سچے کا منہ ہے جھوٹے کا منہ نہیں ۔ تو بعض دفعہ صداقت نتھر کر الگ ہوتی ہے اور کچھ آنکھیں ان کو پہچانتی ہیں جو سچا منہ رکھتے ہیں۔ لیکن دنیا کی اکثر آنکھیں میلی ہو چکی ہوتی ہیں اس لئے وہ سچائی کو پہچاننے کی اتنی اہلیت تو نہیں رکھتیں لیکن جھوٹ جب نتھر کے سامنے آتا ہے تو اس کو پہچاننے لگ جاتی ہیں ۔ ایک منفی رنگ میں ان پر صداقت کا اظہار ہوتا ہے کیونکہ اکثر گندگی کی عادی ہو چکی ہوتی ہیں نظریں، گند میں پلتی ہیں ، گند کو دیکھتی ہیں تو بعض دفعہ خدا اس عادت کو توڑنے کے لئے گند کو چمکاتا ہے اور ابھارتا ہے تا کہ اچانک ان کے دل میں یہ شعور پیدا ہو کہ یہ تو محض گند ہے ، جھوٹ ہے، اس میں صداقت کا کوئی سوال ہی باقی نہیں رہتا ۔ چنانچہ وَلِتَسْتَبِينَ سَبِيلُ الْمُجْرِمِينَ میں یہی مضمون بیان فرمایا گیا ہے کہ بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ ہم آیات کو اس طرح کھولتے ہیں کہ کبھی بچوں کی راہ الگ کر کے دکھاتے ہیں تو کبھی جھوٹوں کی راہ الگ کر کے دکھاتے ہیں اور خوب کھول دیتے ہیں کہ یہ لوگ محض گندے ہیں ان میں کوئی سچائی کی علامت نہیں پائی جاتی ۔ ایسے ہی واقعات آج پاکستان میں بکثرت ہو رہے ہیں اور وہ منزل آرہی ہے قوم کے لئے جہاں گندے لوگ اپنے گند میں اتنا بڑھ گئے ہیں کہ اب عام قوم جو پہلے غفلت کی نظر سے ان کے گند کو دیکھ رہی تھی اب باشعور طور پر دیکھ رہی ہے اور پہچاننے لگی ہے۔ چنانچہ بکثرت واقعات میں سے ایک واقعہ میں یہ بیان کرتا ہوں اور اس ظلم کے نتیجہ میں جو جماعت کا وہاں حال ہے اس کی چند ایک مثالیں آپ کے سامنے رکھتا ہوں ۔ - ایک صاحب لکھتے ہیں کہ ربوہ میں چند دن پہلے مختلف مولوی اور ان کے چیلے چانٹے اکٹھے ہوئے اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خلاف اس قدر پخش کلامی کی کہ جیسے کسی