خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 47
خطبات طاہر جلد ۳ 47 خطبه جمعه ۲۰ جنوری ۱۹۸۴ء لطفوں سے بھی محروم ہے اور اللہ کی رحمت سے بھی محروم ہو جائے ۔ پتہ نہیں کسی نادان نے کسی کو کیا یہ سمجھا دیا ہے کہ پردہ دری میں مزہ ہے جو ستاری میں مزہ ہے پردہ دری تو اس کے پاسنگ کو بھی نہیں پہنچ سکتی ۔ پردہ دری تو ایک گندی لذت ہے جس کی سردر دیاں ساتھ لگی ہوئی ہیں ، فساد ہے معاشرہ کا دکھ پھیلانے والی بات ہے۔ آپ ملوث کرنے والی بات ہے اپنے آپ کو دکھوں میں اور پردہ درا دری کرنے والے کے خلاف تو اور بھی لوگ پڑ جاتے ہیں خواہ مخواہ کی جھنجھٹ ہیں مصیبت کے جس کا نام جاہلوں نے لذت رکھ لیا ہے۔ جو ستاری کا مزہ ہے وہ بالکل اور مزہ ہے ایسی ہے ایسی عظیم روحانی لذتیں ہیں ستاری میں کہ عام انسان ان کا تصور بھی نہیں کر سکتا ۔ یہ روح میں لذت داخل ہوتی ہے اور اس کا جزو بن جاتی ۔ ہے اور روح کو ایک قوت عطا کرتی ہے ایک بلند مقام عطا کرتی ہے کردار کی تعمیر کرتی ہے۔ خدا کرے کہ جماعت احمد یہ عفو اور ستاری میں درجہ کا نو اورستاری میں درجہ کمال تک پہنچ جائے ۔ ساری جماعت، جماعت کا ہر فرد، جماعت کے بوڑھے، جماعت کے بچے ، جماعت کے مرد، جماعت کی عورتیں خدا تعالیٰ کی عفو اور ستاری کی صفات کو اس طرح اپنا لیں کہ دنیا میں خدا کے مظہر بن جائیں اور تمام دنیا ان صفات سے فیض پانے والی بنے۔ خطبہ ثانیہ کے دوران فرمایا: گزشتہ جمعہ میں میں نے دعا کی ایک تحریک کی تھی اسے بھولیں نہیں ۔ یہ بہت ہی بے صبری ہوگی بلکہ گستاخی ہوگی اور کبر اور انانیت ہوگی کہ ایک ہفتہ کی دعا کے بعد لوگ یہ سوچنے لگیں کہ اللہ نے قبول نہیں کی اس لئے اب چھوڑ دو اس بات کو ۔ ایسے ایسے بزرگوں کے ذکر بھی ملتے ہیں کہ مدتیں گزار دیں انہوں نے عمر کا ایک حصہ گزار دیا دعائیں کرتے ہوئے اور خدا تعالیٰ نا منظوری کی اطلاع دیتا تھا ان کو اور وہ صبر سے قائم رہے۔ یہاں تک کہ بالآخر اللہ تعالیٰ نے ان کی اس سارے عرصہ کی تمام دعائیں قبول فرمالیں اس لئے بندہ بنیں ، بندگی کے ساتھ دعا کرنے کی عادت ڈالیں اور عجز وانکساری کے ساتھ۔ مالک وہ ہے، جب چاہتا ہے تو حیرت انگیز طور پر قبول فرما کر ہمارے دلوں کو خوشی سے بھر دیتا ہے اور جب نہیں چاہتا تو ہمیں بتاتا ہے کہ میں مالک ہوں تم بندے ہو، عجز اور بندگی کے مقام پر قائم رہو ۔ اس لئے دعا نہیں چھوڑنی رحمت بای کے لئے ، بارش کے لئے اور جیسا کہ میں نے کہا تھا صرف اپنے ملک کے لئے نہ کریں افریقہ کی حالت بہت ہی دردناک ہے۔ رات بھی بی بی