خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 506
خطبات طاہر جلد ۳ 506 خطبہ جمعہ ۷ استمبر ۱۹۸۴ء عبداللطیف شہید پیدا ہوئے تھے اس لئے قوم کو رد کر دینا اور یہ کہنا شروع کر دینا کہ قوم گندی ہوگئی ہے ماری جائے یہ بالکل ظالمانہ طریق ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ لیڈر تباہ ہو جاتے ہیں تب جاکے قوموں پر عذاب آتے ہیں۔ اس لئے قوم کی دعائیں نہیں چھوڑنی ۔ اگر یہ قوم گندی ہوتی تو آج سینکڑوں کی بجائے ہزاروں لاکھوں احمدی مصیبت میں مبتلا ہوتے یہ میں آپ کو کو نہ بتا دیتا ہوں ۔ بے شمارایسے واقعات ہیں جو آپ کے علم میں نہیں آ رہے جہاں جھوٹے الزام لگائے گئے ہیں اور وہ عام مجسٹریٹ جو دنیا کی خاطر رشوت بھی کھانے والے تھے اتنا خوف خدا کا ضرور رکھتے ہیں کہ خدا کے نام پر ظلم برداشت نہیں کرتے اور وہ ان مقدموں کو خارج کر دیتے ہیں اور قبول کرنے سے انکار کر دیتے ہیں، روزانہ ایسی خبریں بھی آرہی ہیں۔ ایسے پولیس کے آدمی ہیں جو ویسے تو دنیا داری میں ملوث اپنے نفس کی خاطر گناہ بھی کر لیتے ہیں لیکن اتنا خوف خدا کا ضرور رکھتے ہیں کہ ایک آدمی واضح طور پر بغیر کسی جرم کے محض خدا کے نام پر پکڑا ہوا آرہا ہے وہ اسے قبول کرنے سے انکار کر دیتے ہیں۔ تو یہ جو واقعہ ہو رہا ہے کہ ہزار ہا کوششوں میں سے صرف چند کوششیں کامیاب ہوتی ہیں یہ اس بات کا قطعی ثبوت ہے کہ قوم کا دل گندہ نہیں ہے۔ اگر قوم کا دل گندہ ہوتا تو آپ کے حالات بالکل مختلف ہوتے میں یہ آپ کو یقین دلاتا ہوں ۔ اس لئے اپنی قوم کے اس احسان کو بھولنا نہیں ہے۔ بھاری اکثریت ہے قوم کی جس نے اس فیصلے کو رد کیا ہے اور وہ اس کو ظلم قرار دیتے ہیں کہ اسلام کے نام پر اذانیں بند کی جائیں ، اسلام کے نام پر مسلمان کہلانے کے حق سے محروم کیا جائے ، اسلام کے نام پر اپنے دفاع کا حق چھین لیا جائے ، اسلام کی نام پر اپنے مذہب کی تبلیغ سے باز کر دیا جائے۔ بھاری اکثریت ہے آپ کے ملک کی یعنی پاکستان کی میرا مطلب ہے پاکستان کی بھاری اکثریت ایسی ہے احمدیت تو خیر بین الاقوامی ہے لیکن چونکہ پاکستان کا ذکر ہو رہا ہے اس لئے آپ کا ملک جب میں نے کہا تو مراد پاکستان تھا۔ پس پاکستان کو اس طرح رد کر دینا که گویا نعوذ بالله من ذالک پاکستان ظالم ہو گیا ہے، یہ بالکل غلط ہے۔ بعض اخبارات میں مجھے یہ خبریں دیکھ کر بڑی تکلیف پہنچی کہ بعض لکھنے والے جو احمدی نہیں ہیں ۔ انگریز ہیں یا جرمن ہیں یا افریقن ہیں انہوں نے ان مظالم کو اس طرح پیش کیا ہے کہ گویا پاکستان ظالم ہے حالانکہ حقیقت یہ کہ