خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 446
خطبات طاہر جلد ۳ 446 خطبہ جمعہ ۱۷ اگست ۱۹۸۴ء اب مجھ سے بار بار احتجاج نہیں ہوتے جو مرضی کہو مجھے لیکن چونکہ کہنے والوں کی نیت بدنہیں اس لئے تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ (الحجرات :۱۲) میں بہر حال نہیں آتا خیر یہ تو ضمنی بات تھی ۔ انہوں نے تو اتنی محنت کی ہے کہ جو دوست مختلف کاروائیاں سننے والے تھے اور جو جانتے ہیں، جو قریب رہے ان کی طرف سے مسلسل مجھے دعا کے خط آتے رہے اس لئے میں اس موقع پر میں ان کے لئے دعا کی بھی درخواست کرنا چاہتا ہوں ۔ شروع میں ہی ان کو نظر آگیا تھا کہ ان سے کیا ہونی ہے؟ پانچ گھنٹے مسلسل ان کو بولنا پڑتا تھا اور جب انہوں نے درخواست کی کہ میں نے تیاری کرنی ہوتی ہے جو میں کام کر رہا ہوں مجھے ساری رات جاگنا پڑتا ہے اور پانچ گھنٹے بولنے کے لئے آپ لوگ جانتے ہیں وکیل رہ چکے ہیں کہ کتنی بڑی تیاری کی ضرورت ہے تو اس وقت کو کچھ کم کریں سہولت سے چلیں ۔ لیکن معلوم ہوتا ہے کچھ ہدایات تھیں یا کچھ مقاصد تھے جو ظاہر نہیں کئے گئے عدالت کی طرف سے۔ وہ چاہتے تھے کہ افراتفری میں جتنی جلدی ہو سکے یہ معاملہ نبیڑا جائے۔ چنانچہ ان کی درخواست کو صاف رد کر دیا گیا اور کہا یہ گیا کہ ہم تم سے بوڑھے ہیں ہم جب بیٹھتے ہیں پانچ گھنٹے تو تمہارا پانچ گھنٹے کھڑے ہونے میں کیا فرق پڑتا ہے۔ ہم چونکہ سنتے ہیں پانچ گھنٹے اس لئے تمہارا 19 گھنٹے تیاری سے کیا فرق پڑ جاتا ہے؟ تو عجیب دلیل تھی۔ لیکن یہ بھی پتہ لگ گیا کہ آئندہ کس قسم کی دلیلیں آنے والی ہیں ؟ صلى الله۔ بہر حال مقدمہ دونوں طرف سے بڑے جوش و خروش سے لڑا گیا اور بار بار ہمارے احمدی وکیل یہ کہتے رہے کہ ہم قرآن وسنت سے بات کر رہے ہیں۔ آپ بعد کے فقہاء کی باتیں کرتے ہیں۔ شریعت کی بات کرنی ہے تو قرآن وسنت سے فیصلہ ہونا چاہے۔ یہ کیا قصہ ہے کہ فلاں فقیہ نے یہ کہا اور فلاں فرقے کے فلاں امام نے یہ کہہ دیا ؟ ہم تو قرآن اور محمد رسول اللہ ﷺ کو امام مانتے ہیں اس لئے آنحضور ﷺ کا حوالہ دیجئے شوق سے ، قرآن کریم کے حوالے دیجئے اس سے باہر کی دنیا جو کئی سو سال بعد پیدا ہوئی ہے اس کے حوالوں میں ہمیں کیوں کھینچتے ہیں۔ مگر چونکہ عدالت ان کے ان حوالوں کو سراہ رہی تھی اور واہ واہ کر رہی تھی اور بڑے بڑے دلچسپ ریمارکس ساتھ دیتی چلی جا رہی تھی اس لئے ان وکلا کے لئے مجبوری تھی کہ جس میدان میں بھی وہ گھسیٹیں اُس میدان میں جائیں اور اُس میدان میں بھی اُن پر فتح پائیں۔ چنانچہ یہ ایک غیر معمولی محنت سے تیار کیا ہوا مقدمہ تھا