خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 445 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 445

خطبات طاہر جلد ۳ 445 خطبہ جمعہ ۱۷ اگست ۱۹۸۴ء شرعی مسلک سے تعلق رکھنے والی عدالت ہے۔ اس لئے کوئی بعید نہیں کہ یہ اسے کھلم کھلا لوگوں کے سامنے اس کا روائی کو چلائیں اور اخباروں کو بھی اجازت ہو کہ وہ پوری کا روائی کو آگے چھاپنا شروع کر دیں لیکن جب مقدمہ شروع ہوا تو تعجب ہوا کہ اس معاملہ میں بھی انتہائی Secrecy یعنی راز برتا گیا ہے اور سوائے ان چیدہ آدمیوں کے جن کو ٹکٹ دیا گیا فریقین کی طرف سے اخبارات کو نہ تو کاروائی شائع کرنے پر اجازت تھی اپنی طرف سے اور نہ احمدیوں کو جو مقدمہ کے ایک فریق تھے ان کو اجازت تھی کہ وہ اس کا روائی کو شائع کریں اور صرف عدالت کی طرف سے جو مختصر نوٹ جاری ہوتا تھا وہی صرف شائع کیا گیا ۔ اس سے ایک تو ان کا رحجان بڑا واضح ہو گیا کہ وہ کیا چاہتے ہیں اور ایک تو بڑی قطعی بات ہے جس دن یہ فیصلہ کیا گیا اور پہلے دن ہی یہ فیصلہ کیا گیا ہے اس سے ایک بات واضح ہو گئی کہ اگر ان کے نزدیک دلائل حکومت کی طرف ہوتے جنہوں نے یہ آرڈنینس جاری کیا ہے تو ناممکن تھا کہ وہ اس کو چھپاتے اس بحث کو ان کو تو اشتہار دے کر بلوانا چاہئے تھا ساروں کو کہ آکر دیکھ لو یہ جواحمدی کہتے ہیں کہ حکومت نے ظلم کیا ہے ابھی ثابت ہو جائے گا قرآن کریم کی رو سے کہ بالکل جھوٹ کہتے ہیں اور حکومت بالکل حق پر ہے اور عین شریعت کے مطابق فیصلے ہوئے ہیں۔ تو وہی وجہ جو اس سے پہلے نیشنل اسمبلی کے فیصلوں کو چھپانے کی بنی اور اس کا روائی کو چھپانے کی وہی وجہ اب پھر حائل ہوگئی اس کارروائی کو مشتہر کرنے میں ۔ بہر حال ابھی بھی کوشش تو کی جارہی ہے اور وکلا نے درخواستیں دی ہیں جنہوں نے مقدمہ کیا تھا کہ ہم فریق ہیں ہمارا حق ہے کہ ساری کاروائی کی Tape ہمیں بھی دی جائے اور تحریری عدالت کی مصدقہ نقول بھی ہمیں دی جائیں کہ مقابل پہ لوگ کیا کہتے تھے ہم کیا کہتے رہے۔ تو اگر وہ مان گئے تو یہ فائدہ اب بھی حاصل ہو سکتا ہے اور ساری دنیا میں اس کیس کی اشاعت ہو جائے گی اور اصل حج تو خدا ہے لیکن خدا کے بعد بندوں میں تبلیغ کے طور پر یہ کاروائی بہت کام آسکتی ہے کیونکہ مسلسل جماعت احمد یہ کے وہ ممبران جنہوں نے انفرادی حیثیت سے یہ مقدمہ کیا ان میں ہمارے وکیل جو خاص طور پر پیش پیش تھے جنہوں نے بہت محنت کی ہے وہ شیخ مجیب، شیخ تو غلطی سے ان کے نام کے ساتھ لگ جاتا ہے مجیب الرحمن صاحب ہیں بنگال کے ہیں چونکہ نام مجیب الرحمن ہے اس لئے اکثر شیخ خود بخودساتھ لگ جاتا ہے۔ وہ کئی دفعہ احتجاج بھی کر چکے ہیں اب تو بیچارے جواب دے بیٹھے ہیں کہتے ہیں