خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 220
خطبات طاہر جلد ۳ 220 خطبه جمعه ۲۰ را پریل ۱۹۸۴ء کرتے تو دنیا کی یہ کایا پلٹ ہی نہیں سکتی ، بڑی بڑی قوموں کو مخاطب کرنا ہوتا ہے، بڑے بڑے معاند لوگوں کو اس نے مخاطب کرنا ہوتا ہے جو نصیحت کے بدلہ میں نہایت سنگین سزائیں تجویز کر رہے ہوتے ہیں کیسے ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں اکیلا میدان میں چھوڑ دے اور ان کے ساتھیوں پر یہ فریضہ عائد نہ کرے اس لئے تاریخ انبیاء بتاتی ہے کہ ایمان لانے والے تمام جان اور تمام طاقت کے ساتھ اور تمام خلوص کے ساتھ انبیاء کی مدد کے لئے حاضر ہو جایا کرتے ہیں ، سب کچھ پیش کر دیتے ہیں ۔ مَنْ أَنْصَارِي إِلَى الله کی آواز اٹھتی ہے اور مقابل پر آواز اٹھتی ہے نَحْنُ أَنْصَارُ اللهِ۔ صلى الله تو پھر نصیحت کے ساتھ کیا منافقت کا بھی تعلق ہے؟ یہ سوال اٹھتا ہے۔ تو آنحضرت ا جو در اصل حقیقی عارف باللہ تھے اور تمام عرفان کا چشمہ آپ سے پھوٹتا تھا ، آپ نے منافق کی جو تعریف فرمائی اس میں اس فرق کو ظاہر فرمادیا۔ منافق وہ نہیں ہے جس کے اندر کمزوریاں ہیں، ان کمزوریوں پر شرمندہ ہے ، خدا کے حضور گریہ وزاری کرتا ہے، اس سے معافیاں مانگتا ہے، کوشش کرتا ہے کہ یہ کمزوریاں دور ہو جائیں ، اتنے سچے دل سے اپنی کمزوریاں سمجھتا ہے کہ غیروں میں بھی ان کمزوریوں کو دور کرنے کی کوشش کرتا ہے وہ منافق نہیں ہے۔ منافق وہ ہے جس کے اندر بالا رادہ دھو کہ پایا ئے اور منافقت اور ارادہ کا اور ارادہ کا ایک ایسا ساتھ ہے کہ آنحضور ﷺ نے اس حقیقت کو خوب کھول کر واضح فرمادیا۔ آپ نے چار علامتیں منافقت کی بیان فرمائیں اور ان چاروں میں ارادہ پایا جاتا ہے۔ آپ جائے اور فرماتے ہیں: صلى الله اَرْبَعٌ مَّنْ كُنَّ فِيْهِ كَانَ مُنَافِقًا خَالِصًا وَمَنْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِنْهُنَّ كَانَتْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِّنَ النِّفَاقِ حَتَّى يَدَعَهَا إِذَا أُ تُمِنَ خَانَ وَ إِذَا حَدَّتَ كَذِبَ وَ إِذَا عَاهَدَ غَدَرَ وَإِذَا خَاصَمَ فَجَرٍ ۔ ) پیچ بخاری کتاب الایمان باب علامة النفاق ) صحیح کہ چار صفات ایسی ہیں کہ اگر وہ کسی شخص میں پائی جائیں یعنی چاروں بیک وقت پائی جائیں تو وہ خالص منافق ہے اس کے اندر نفاق ہی نفاق ہے، یعنی نفاق میں اخلاص رکھتا ہے اور ایمان کا کچھ بھی اس میں باقی نہیں رہتا۔ ان میں سے پہلی یہ ہے کہ جب وہ إِذَا أَتُمِنَ خَانَ جب اس کے سپر د امانت کی جاتی ہے تو وہ امانت میں خیانت کرتا ہے اور امانت سے یہ مراد نہیں ہے کہ چند روپے رکھوا دیئے جائیں، کوئی سامان رکھوا دیا جائے اور اس میں کوئی خیانت کر جائے۔ امانت ایک