خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 219
خطبات طاہر جلد ۳ 219 خطبه جمعه ۲۰ را پریل ۱۹۸۴ء - تو نصیحت کا نظام باوجود اس کے کہ کمزوریاں ہوں یہ زندگی کی ضمانت ہے اور منافقت کو دور کرنے کے لئے ایک عظیم الشان نظام ہے لیکن بعض اوقات بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ ہم چونکہ کمزور ہیں ، ہم بدیوں میں ملوث ہیں اسلئے ہمیں نصیحت نہیں کرنی چاہئے اور بہت سے لوگوں کو یہ دیکھا گیا ہے کہ بعض بیعت کرنے میں اس لئے کتراتے ہیں وہ کہتے ہیں ہمیں سمجھ تو آگئی ہے لیکن ہم بڑے کمزور ہیں اور اپنی کمزوریوں پر نگاہ کر کے اس عہد بیعت کو نباہ نہیں سکتے ۔ اور ہمارا ضمیر ہمیں شرمندہ کرے گا اور بعض لوگ تبلیغ سے اس لئے باز رہتے ہیں کہ ہمارے اندر اپنی کمزوریاں ہیں ہم کس منہ سے دوسروں کو بلائیں ۔ چنانچہ حضرت مرزا سلطان احمد صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وصال کے بہت بعد بیعت کی تھی جبکہ زندگی میں ایمان لے آئے تھے اور اپنے بیٹے حضرت مرزا عزیز احمد صاحب کو آپ نے خود نصیحت کی کہ بیعت کر لو اور ایمان لانے کے باوجود بیعت نہیں کرتے تھے جب پوچھا گیا، بعض دوستوں نے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ میں جانتا ہوں کہ میرا باپ سچا ہے میں تو اس گھر کا پلا ہوا ہوں لیکن میرے اندر کمزوریاں ہیں ، میرا نفس مجھے شرمندہ کرتا ہے کہ تم اس قابل نہیں کہ اس عظیم باپ کی بیعت کر سکو ۔ یہ بھی ایک خیال ہو جاتا ہے لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ یہ منافقت نہیں ہے۔ منافقت ایک اور چیز کا نام ہے ، میں اس کی وضاحت ابھی کروں گا۔ ہر انسان کچھ کمزوریاں اپنے اندر رکھتا ہے اور کوئی انسان بھی کامل نہیں سوائے ا رائے انبیاء علیھم السلام کے جن کو معصومیت اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہوتی ہے کیونکہ خدا تعالیٰ نے ان کو نمونہ بنانا ہوتا ہے اور ان معصوم انبیاء میں سب سے زیادہ معصوم حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ تھے کیونکہ وہ جملہ نبیوں کے لئے بھی ایک ماڈل (Model) تھے۔ یہ تو ایک خاص قسم کے مقدس اور برگزیدہ طبقہ کا حال ہے کہ وہ معصوم ہیں لیکن یہ خدا کے خاص فضل کے نتیجے میں اپنی طاقت کی بنا پر نہیں ۔ باقی انسان کسی بھی مقام پر کھڑا ہو وہ معصوم عن الخطاء قرار نہیں دیا جا سکتا۔ پس اگر اسے منافقت سمجھا جائے کہ ایک انسان کمزور ہو کچھ کمزوریاں اپنے اندر رکھتا ہو اور اس کے باوجود لوگوں کو نصیحت کرے تو پھر تو یہ آیت کریمہ سوائے انبیاء علیہم السلام کے کسی کے اوپر بھی صادق نہیں آئے گی۔ یہ صرف نبی ہی ہیں جو جرات کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ ہم منافق نہیں ہیں ۔ ہمارا ظاہر و باطن سو فیصدی ایک ہے اور ہمیں خدا نے مامور فرمایا ہے اس لئے ہم لوگوں کو نصیحت کرتے ہیں اور اکیلا نبی اگر یہ کام شروع