خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 153 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 153

خطبات طاہر جلد ۳ 153 خطبه جمعه ۱۶ / مارچ ۱۹۸۴ء اور اپنی طرف سے حلم عطا فرمائے گا جس کا مطلب یہ ہے کہ علم اور حلم دونوں کے لئے ہمیں دعاؤں کی طرف توجہ کرنی چاہئے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے علم کی طرف تو جماعت توجہ کر رہی ہے پہلے ہی اور بکثرت علم کے لئے دعاؤں کے خطوط آتے ہیں لیکن حلم والا پہلوا بھی نظر سے اوجھل ہے اور حلم کی بہت زیادہ ضرورت ہے کیونکہ سچا علم حلم کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتا اس کا بڑا گہرا تعلق ہے ۔ مگر بہرہ ہے ۔ مگر بہر حال اس وقت میں آپ کے سامنے جو علم کا خاص پہلو رکھنا چاہتا ہوں وہ ہے غصہ کے وقت اپنی ذہنی حالت کو متوازن رکھنا اور مشتعل ہو کر عقل کو نہ کھونا، ایسی حالت میں صاحب عقل اور صاحب فہم رہنا جبکہ عام انسان اس وقت عقل اور فہم دونوں کو کھو دیتے ہیں اور مغلوب الغضب ہو کر پھر وہ فیصلے کرتے ہیں اور حرکتیں کرتے ہیں ۔ صلى الله عروسه صلى الله آنحضرت ﷺ کے متعلق حضرت ابوھریرہ کی روایت ہے کہ ایک دفعہ رسول کریم ﷺ کی خدمت میں ایک شخص نے آکر عرض کی کہ یا رسول اللہ ! میرے کچھ رشتے دار ہیں میں ان کے ساتھ ملتا ہوں وہ کاٹتے ہیں یعنی میں تعلق جوڑتا ہوں اور وہ تعلق توڑتے ہیں ، میں بھلائی کرتا ہوں اور وہ مقابل پر صلى الله بدی کرتے ہیں وہ جہالت کرتے ہیں میرے سے یعنی ایسی جاہلا نہ غصے سے مغلوب ہو کر حرکتیں کرتے ہیں کہ ان میں کوئی عقل کی بات نہیں ہوتی ۔ ( جہالت اور غصے کی حرکت یہ علم کے بالکل متقابل صفات ہیں ) تو میں حلم سے کام لیتا ہوں ۔ آنحضرت ﷺ نے یہ سن کر فرمایا کہ اگر واقعی ایسا ہے جیسا کہ تو کہہ رہا ہے تو تو ان کے منہ میں گرم راکھ بھر رہا ہے یعنی خاک ڈال رہا ہے ان کے منہ میں ۔ اس سے اچھا جواب تو نہیں دے سکتا جو تو دے رہا ہے اور جب تک تو اس حالت پر قائم رہے گا اللہ تعالیٰ کی مدد ہمیشہ تیرے ساتھ رہے گی ۔ (صحیح مسلم کتاب البر والصله والادب باب صلة الرحم تحریم قطعتها) صلى الله پس حلم کا اور فائدہ جو دنیاوی طور پر خود بخود پہنچتا ہے وہ تو ہے یہ ایک حیرت انگیز اور عظیم الشان فائدہ ہے کہ علم کے نتیجہ میں بندہ کوئی نقصان اٹھا ہی نہیں سکتا۔ بظاہر وہ جو حقوق چھوڑ رہا ہے، بظاہر جو جائز بدلے چھوڑ رہا ہے اپنے ، آنحضرت ا اسکوخوش خبری دیتے ہیں کہ اللہ تعالی اسکی مدد پر کھڑا ہے مسلسل عليها ایسی حالت میں ۔ اکثر ہمارے خاندانی جھگڑے حلم کی کمی کی وجہ سے ہوتے ہیں یعنی علم کا مطلب یہ ہے کہ غصے کی جائز وجہ ہو اور پھر برداشت کرے انسان پھر جلد بازی میں کوئی ایسی حرکت نہ کر بیٹھے جس سے تکلیف آگے بڑھے۔ یہ مراد نہیں ہے کہ غصہ کی جائز وجہ نہ ہو اور پھر وہ حلم دکھائے ، غصے کی وجہ موجود ہونی چاہئے اور جتنے جھگڑے ہیں ان میں ہر فریق یہی کہتا ہے کہ آپ ہمیں سمجھاتے ہیں؟ واقعتہ اس کا قصور