خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 152
خطبات طاہر جلد ۳ 152 خطبه جمعه ۱۶ / مارچ ۱۹۸۴ء ہیں لیکن حلم قریباً مفقود نظر آتا ہے اور علم یعنی روحانی علم وہ بھی کلیتہ مفقود نظر آتا ہے۔ تو ایک تو حضرت عیسی صلى الله علیہ السلام سے خدا تعالیٰ کا یہ مکالمہ بتاتا ہے کہ آنحضرت علی ان ایسی دو صفات کو دوبارہ قائم کرنے کے صلى الله لئے تشریف لائے جن کا پہلے کوئی وجود ہی باقی نہیں رہا تھا اور حضرت عیسی اور آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں سلم اتنی بڑی تباہی آئی ہے دنیا پر کہ علم او حلم دونوں اٹھ چکے تھے اور محض خدا نے اپنے فضل سے عطا کیا۔ انسان کی طاقت نہیں تھی کہ اس وقت ان دو صفات کو دوبارہ دنیا میں جاری کر سکے۔ دوسرا حضرت عیسی کی طرف جب بات منسوب ہوتی ہے اور آپ کے بعد کہا جائے تو اس سے مراد دوسرا عیسوی دور بھی ہے یعنی مسیح کا ایک اول دور بھی اور مسیح کا ثانوی دور بھی۔ موسیٰ صاحب شریعت نبی تھے اور امت کے اول تھے ان معنوں میں حضرت موسی کی آنحضور ﷺ کے ساتھ ایک مماثلت پائی جاتی ہے اور عیسی کی اس مسیح سے مماثلت صلى الله ہے جس کے متعلق آنحضور ﷺ نے فرمایا کہ اللہ نے خبر دی ہے کہ وہ ضرور آئے گا۔ الله پس خاص طور پر جماعت احمدیہ سے بھی اس کا تعلق ہے اور جماعت احمد یہ کو ان دوامور میں ترقی کی خوشخبری بھی دی گئی ہے اور ان کی طرف توجہ کرنے کی تلقین بھی کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفت علیم یعنی اس کے علیم ہونے سے حصہ پاؤ اور اس کے حلیم ہونے سے حصہ پاؤ یہ دوصفات اگر تم مضبوطی سے پکڑ لوگے تو تمہارے لئے یہ عظیم الشان کام دکھائیں گی ۔ پس میں سمجھتا ہوں کہ اس میں جماعت احمد یہ کے لئے خوشخبری بھی بہت ہے اور توجہ بھی دلائی گئی ہے۔ علم کی طرف تو جو رو چلی ہے اس وقت جماعت احمد یہ میں اللہ تعالیٰ حضرت خلیفہ اسیح الثالث کو غریق رحمت فرمائے ، آپ نے غیر معمولی توجہ دی جماعت کے علمی معیار کو بڑھانے کی طرف اور ایک رو چلا دی ، ایک جوش اور ولولہ پیدا ہو گیا ۔ اس کثرت کے ساتھ تمام دنیا سے علم کو بڑھانے کی دعاؤں کے لئے خط آتے ہیں کہ دنیا میں کسی قوم میں کبھی بھی کسی نسل میں بھی اس کثرت سے ایسے بچے نہیں پیدا ہوئے جو اپنے علم کو بڑھانے کے لئے اس طرح خدا سے دعا ئیں کرتے ہوں اور دعا ئیں منگوانے کے لئے خط لکھتے ہوں ۔ ایک ہی قوم ہے اس وقت دنیا میں جماعت احمد یہ کوئی مثال ہی نہیں اس کی نہ یورپ میں ، نہ امریکہ میں ، نہ چین میں، نہ جاپان میں ، نہ روس میں، کہیں بھی اس طرح آپ کو طالب علم نہیں ملیں گے جو اپنے زور پر اپنی قوت سے علم حاصل کرنے کو کافی نہ سمجھتے ہوں اور محتاج سمجھیں اپنے آپ کو ہر لحظہ دعاؤں کا اور اللہ تعالیٰ کے فضل کا۔ پس اس حدیث میں جو خبر دی گئی ہے وہ یہی ہے کہ خدا اپنی طرف سے ان کو علم عطا فرمائے گا