خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 620 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 620

خطبات طاہر جلد ۲ 620 خطبه جمعه ۱۹ دسمبر ۱۹۸۳ء از خود اس کو کسی کے سپرد کرنا تھا اس کے لئے آپ نے اس شخص کو چنا جس کے خاندان کو چابیاں رکھنے کا اعزاز حاصل تھا۔ (تفسیر ابن جریر طبری جلد ۵ صفحه ۴۵ زیر آیت ان الله يامركم أن تؤدوا الامانة ) صلى الله عروسہ پس اس آیت کی شان نزول تو حضرت محمد مصطفی سے تعلق رکھتی ۔ صلى الله ہے نہ کہ عثمان بن ابی طلحہ سے ۔ آنحضرت علی علوم یہ خود بھی امانت کے انتہائی اعلیٰ مقام پر فائز تھے نے اور اور اپنے اپنے غلاموں غلاموں کی بھی اسی صلى الله اوسه رنگ میں تربیت فرمائی یہاں تک کہ چھوٹے چھوٹے بچے بھی امانت کے حق اور اس کی باریک راہوں کو سمجھنے لگ گئے ۔ چنانچہ حضرت انس بن مالک کی روایت ہے کہ میں ایک مرتبہ کھیل رہا تھا آنحضرت نے مجھے کسی کام کے لئے بھجوا دیا، میں جب ذرا تاخیر سے گھر آیا تو میری ماں نے مجھ سے پوچھا کہ کیا بات ہے آج تم گھر تاخیر سے آئے ہو تو میں نے کہا کہ حضور اکرم اللہ نے مجھے کسی کے پاس پیغام دے کر بھجوایا تھا اس لئے مجھے دیر ہوگئی تو اماں نے پوچھا کیا بات تھی آپ نے کہا میں تمہیں کیوں بتاؤں یہ تو میرے آقا محمد مصطفی ﷺ کی امانت کی امانت ہے۔ مجھے تو حضور نے اجازت نہیں د اجازت نہیں دی کہ میں تجھے بتاؤں ۔ ماں نے کہا ہاں بیٹے ! کسی کو بھی نہ بتانا اسی طرح امانت کے حق ادا ہوتے ہیں ۔ (صحیح مسلم کتاب الفضائل ۔ باب فضائل انس بن مالک) پس کتنی بار یک تعلیم تھی اور کتنا گہرا اثر چھوڑا ہے اپنے غلاموں پر کہ بچے بھی امانت کے راز سمجھ گئے اور امانت ایسے عظیم الشان مقام پر پہنچی کہ اس سے پہلے تاریخ میں دنیا نے کبھی ایسے امین نہیں دیکھے تھے اور یہ اثر بڑی دیر تک امت مسلمہ میں جاری رہا۔ گین ایک مشہور مورخ ہے۔ وہ ایک مسلمان بادشاہ کی امانت کے اس معیار کا ذکر کرتے ہوئے حیرت کے ساتھ اپنا سر جھکا لیتا ہے جو حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے امت میں پیدا کیا تھا۔ وہ اس بات کا واضح طور پر ذکر کرتا ہے اور لکھتا ہے کہ یہ جو میں واقعہ بیان کر رہا ہوں اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ محمد (ع) نے امانت پر اتنا زور دیا ہے اور امت کو امانت کی ایسی باریک راہوں پر چلایا ہے کہ یہ اسی صلى الله کا فیض تھا کہ سینکڑوں سال بعد یہ واقعہ رونما ہوا۔ الپ ارسلان کا بیٹا ملک شاہ جب بادشاہ بنا تو چونکہ اس کے والد ایسے وقت میں گزر گئے جبکہ اس کی عمر ابھی چھوٹی تھی تو شریکوں نے اور رشتہ داروں نے اپنی اپنی جگہ حکومتوں کے اعلان کرنے شروع کر دیئے جس سے ملک میں ایک عام بغاوت کی فضا پیدا ہو گئی۔ اس وقت ان کا ایک مشہور وز یر طوسی چونکہ شیعہ تھا اس نے ان کو کہا کہ کیوں نہ ہم امام موسیٰ رضا کی قبر پر چلیں ر پر چلیں اور وہاں دعا کریں اس دعا کا خاص اثر ہوگا ۔ ملک شاہ نے یہ بات مان لی ۔ وہ دونوں ۔