خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 619 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 619

خطبات طاہر جلد ۲ 619 خطبه جمعه ۱۹ دسمبر ۱۹۸۳ء میں پیش کیا گیا تو آپ نے خانہ کعبہ کی چابیاں ان کے سپر دفرمائیں کیونکہ وہ اس خاندان سے تعلق رکھتے تھے جس کے سپرد پہلے خانہ کعبہ کی دربانی کا فریضہ تھا۔ چنانچہ مفسرین لکھتے ہیں کہ گویا یہ آیت حضرت عثمان بن ابی طلحہ کے حق میں نازل ہوئی تھی اور اس آیت کی رو سے آنحضرت ﷺ نے ان کو صلى الله عليه چابیاں پکڑا دی تھیں۔ (تفسیر ابن جریر طبری زیر آیت ان اللہ یا مرکم ان تو دوا الا مانات الى اهلها ) حالانکہ اس آیت کا اصل منشا کچھ اور ہے۔ وہ ان کے ذہن میں نہیں آیا۔ صلى الله اصل واقعہ یہ ہے کہ خانہ کعبہ کی تعمیر کا مقصد اعلیٰ یہ تھا کہ اس میں حضرت محمد مصطفیٰ لے عروسه اللہ کی عبادت کریں کیونکہ خدا کی خاطر بنائے گئے گھروں میں سے سب سے اعلیٰ اور سب سے افضل خانہ کعبہ تھا اور اس کی شان مکینوں سے تھی نہ کہ عمارت سے ، عمارت کی ظاہری شان تو کوئی حقیقت نہیں رکھتی۔ یہ وہی خانہ کعبہ تھا جس میں سینکڑوں بت اکٹھے ہو گئے تھے اور جس میں ایسے گندے اور عشقیہ اشعار پر مشتمل قصیدے لڑکائے ہوئے تھے جن کو کوئی انسان کسی شریف مجلس میں پڑھ کر سنا بھی نہیں سکتا۔ پس اس عمارت کی شان تو اس کے مکینوں سے تھی ۔اسے تو خدا کے انبیاء نے شان بخشی جو خدا کی خاطر اس گھر میں آیا کرتے تھے اور اس کی عبادت کیا کرتے تھے۔ یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام تھے جنہوں نے پہلے اس عمارت کو شان بخشی ، پھر حضرت اسماعیل علیہ السلام تھے جنہوں نے اس کو شان بخشی لیکن ابھی تک اس کا مقصد اعلیٰ پورا نہیں ہو سکا تھا اور جس مقصد کی خاطر یہ عمارت تعمیر ہوئی وہ حضرت محمد مصطفی ﷺ کی بعثت کے ساتھ پورا ہونا تھا تب خانہ کعبہ کی چابیاں حضور کے سپرد کی جانی تھیں ۔ صلى الله عروسه پس اللہ تعالیٰ یہ خوشخبری دے رہا تھا کہ آج وہ دن ہے جب کہ خانہ کعبہ کی تعمیر کا مقصد پورا ہورہا ہے، دیکھو! یہ گھر اس کے سپر د کیا گیا ہے جس کی خاطر بنایا گیا تھا۔ اس سے آنحضرت ﷺ کی ایک عجیب شان ظاہر ہوتی ہے اور مُطَاعِ ثُمَّ آمِین کی تفسیر اس طرح ہمیں معلوم ہوئی کہ جب کامل طور پر آپ کو مطاع بنا دیا گیا اور جب بیت اللہ آپ کے سپرد کر دیا گیا تو پھر بھی آپ نے امانت کی ایسی باریک راہوں کو اختیار فرمایا کہ بطور انعام اور بطور عطا خا نہ کعبہ کی چابیاں اس شخص کے خانہ سپرد کر دیں جس کے خاندان میں پہلے بھی چابیاں ہوتی تھیں اور یہ بطور حق نہیں تھا بلکہ حضرت محمد صلى الله عروسه مصطفیٰ ﷺ کی شان امانت کی انتہا ہے کہ جب خدا نے خانہ کعبہ آپ کے سپرد کر دیا تو پھر آپ نے