خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 346
خطبات طاہر جلد ۲ 346 خطبه جمعه ۲۴ / جون ۱۹۸۳ء هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ الله بہت ہی سننے والا اور بہت ہی جاننے والا ہے ۔ اگر گریہ وزاری کے ذریعہ اس تک ایسی باتیں پہنچائی جائیں جن کا بندے کو علم ہے تو وہ اس تک پہنچ ہی جاتی ہیں کیونکہ وہ سمیع ہے ۔ لیکن ایسے مکر اور ایسے فریب جو خفیہ سازشوں کی حیثیت رکھتے ہیں ، جن کا معصوم بندوں کو علم ہی نہیں ہوتا کہ ان کے اوپر کیا فریب کاریاں کی جا رہی ہیں اور چھپ چھپ کر کیا سازشیں تیار کی جا رہی ہیں ، ان کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں اس بات کا انتظار نہیں کروں گا کہ میرے بندے مجھے بتائیں کہ یہ ہو رہا ہے۔ میں جانتا ہوں کہ کیا ہو رہا ہے؟ پس جس کا دوست سمیع و علیم ہو اس کو کیا خطرہ ہو سکتا ہے ۔ اس کو پکارو گے تو وہ سنے گا اور جواب دے گا اور اگر لاعلمی میں رہو گے تو وہ تمہاری خاطر جان رہا ہو گا ۔ تم سوئے ہوئے ہو گے تو وہ تمہارے لئے جاگ رہا ہو گا اور دیکھ رہا ہو گا کہ تمہارے لئے کیا کیا سازشیں تیار کی جا رہی ہیں ۔ یہ ہیں خدا کے وہ بندے جن کے متعلق فرمایا أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ عاشق کے پہلو سے دیکھیں تب بھی یہ ایک بہت ہی پیاری اور عظیم الشان آیت ہے۔ جن لوگوں کے مقدر میں خدا کا یہ قول لکھا گیا ہو ان کو کونسا خوف ڈرا سکتا ہے اور کون ساغم ان کے دلوں پر قابض ہو سکتا ہے۔ ان لوگوں کو سمجھانے کے لئے اللہ تعالیٰ دوسری گواہی تاریخ کی پیش کرتا ہے یہ تو اللہ کی مومنوں سے باتیں ہیں ، اس کے پیار کا اظہار ہے لیکن دنیا دار بعض دفعہ ان باتوں کو نہیں مانتے۔ وہ کہتے ہیں ہمیں کیا پتہ اس دفعہ کیا ہونے والا ہے اور تمہیں کیا پتہ اس دفعہ کیا ہونے والا ؟ ہم تو بڑے بڑے ارادے لے کر اٹھے ہیں اور بہت تیاریاں کی ہیں ۔ ہمارے سامنے تمہاری کوئی حیثیت نہیں ۔ پہلی قوموں نے فلاں غلطی کی تھی جو کامیاب نہیں ہوئیں، فلاں غلطی کی تھی اس لئے کامیاب نہیں ہوئے ہوں گے لیکن ہماری پکڑ سے تم نہیں بچ سکتے ۔ بار بار دشمن یہی تعلی لے کر اٹھتا ہے ۔ پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ خدا کے قول کا تمہیں اعتبار نہیں ہے۔ خدا کے فرمان کی تمہارے دل میں کوئی پرواہ نہیں ہے مگر تاریخ عالم کو کس طرح جھٹلاؤ گے ایک بھی استثناء تم تاریخ عالم سے نہیں دکھا سکتے ۔ خدا کے نام پر جن لوگوں کو مارنے کی کوشش کی گئی وہ کبھی ہلاک نہیں ہوئے اور خدا کے نام پر جو لوگ مرنے کے لئے تیار ہوئے ان کو ہمیشہ کی زندگیاں عطا کی گئیں اور موت ان کے نصیب میں نہیں لکھی گئی۔ یہ وہ تقدیر ہے