خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 345
خطبات طاہر جلد ۲ ہلاکت کا دعویٰ کرنے والے؟ 345 خطبه جمعه ۲۴ / جون ۱۹۸۳ء چنانچہ اس مضمون کو بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے دوستوں کے ساتھ تمہارا سلوک ان کا کچھ بگاڑ نہیں سکے گا ۔ ان خیالات کو بھول جاؤ یہ تمہارے دلوں کے وہم ہیں، ان کو نکال دولَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيُوةِ الدُّنْيَا ز یادہ سے زیادہ تمہارا اثر دنیا کی چیزوں پر ہو سکتا تھا تم یہی سوچ سکتے ہو اس سے زیادہ تمہاری پہنچ نہیں ہے۔ تمہاری استطاعت نہیں ہے کہ ان سے دنیا چھین لیں ۔ آخرت پر تو تمہارا کوئی قبضہ ہی نہیں۔ فرماتا ہے ہم تمہیں دنیا چھیننے کی بھی اجازت نہیں دیں گے لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيُوةِ الدُّنْيَا ہم ڈرائے جانے والے بندوں کو بشارت دیتے ہیں کہ یہ دنیا بھی تمہاری ہوگی اور آخرت بھی تمہاری ہوگی۔ یہاں بھی تمہارے لئے بشارتیں ہیں اور اُس دنیا میں بھی تمہارے لئے بشارتیں ہیں اور کوئی نہیں جو تمہارا بال بھی بیکا کر سکے کیونکہ تم میرے بندے ہو اور میرے پیارے ہو اور میرے اولیاء کے زمرے میں شمار ہورہے ہو۔ لَا تَبْدِيلَ لِكَلِمَتِ الله فرماتا ہے یہ نہ سمجھنا کہ یہ واقعہ شاید ایک دفعہ ہوا یا دو دفعہ ہوایا چار دفعہ ہوا اور پھر نہیں ہو سکتا۔ یہ خدا کا غیر مبدل قول ہے۔ ایک ایسی تقدیر ہے جو کبھی تبدیل ہوتی ہوئی تم نہیں دیکھو گے۔ جتنی دفعہ تم میرے پیاروں کو دھمکیاں دو گے اتنی بار میں آسمان سے ان کو خوشخبریاں دوں گا۔ تمہاری دھمکیاں ہر بار جھوٹی نکلیں گی اور میری خوشخبریاں ہر بار سچی ثابت ہوں گی۔ لَا تَبْدِيلَ لِكَلِمَتِ اللہ اللہ کے کلمات میں تم کوئی تبدیلی ہوتی ہوئی نہیں پاؤ گے ۔ ذلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ اس کو کہتے ہیں عظیم کامیابی۔ تم کن کامیابیوں کی باتیں کر رہے ہو؟ کامیابی تو وہ ہوتی ہے جو خدا کی طرف سے نصیب ہو، جو آسمان سے اترے، جو دنیا بھی سنوار جائے اور آخرت بھی صلى سنوار جائے ۔ وہ کون سی کامیابی ہے جو دنیا بھی بگاڑ جاتی ہے اور آخرت بھی بگاڑ جاتی ہے۔ پھر خدا آنحضرت ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے وَلَا يَحْزُنُكَ قَوْلُهُمْ إِنَّ الْعِزَّةَ لِلَّهِ جَمِيعًا ظاہری نقصان یا ظاہری ذلتیں پہنچانا تو الگ بات ہے، اے محمد ! تو ان کے دکھ دینے والے قول کا بھی غم نہ کر کیونکہ ساری عزتیں اللہ کے پاس ہیں اور ان کے مقدر میں ساری ذلتیں لکھی جائیں گے اس لئے ان کی زبانی باتوں کی بھی کوئی پرواہ نہ کر ، کوئی غم محسوس نہ کر ۔ ہاں مجھے پکار، مجھے بلا ، میرے لئے اٹھ اور میرے حضور دعائیں کر کیونکہ صلى الله