خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 78
خطبات طاہر جلد 17 78 خطبہ جمعہ 6 فروری 1998ء يَأَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ وَعْدَ اللهِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَيُوةُ الدُّنْيَا وَ لَا يَغْرَنَّكُمُ بِاللَّهِ الْغَرُورُ اے بنی نوع انسان ! اللہ کا وعدہ سچا ہے اس میں کوئی شک کی گنجائش نہیں ۔ فَلَا تَغْرَكُم تمہیں ہرگز دھوکا نہ دے۔ الْحَيُوةُ الدُّنْيَا دُنیا کی زندگی ۔ دُنیا کی زندگی تمہیں کیسے دھوکا دے گی؟ وَلَا يَغْرَنَّكُمُ بِاللَّهِ الْغَرُورُ اور بہت بڑا فریبی الْغَرُور تمہیں دھوکا : دھوکا میں نہ ڈال دے۔ اِنَّ الشَّيْطَن لَكُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوهُ عَدُوا شیطان تمہارا دشمن ہے اسے بحیثیت دشمن کے پکڑو، دوست نہ بنا بیٹھنا۔ إِنَّمَا يَدْعُوا حِزْبَةً وہ تو اپنے پیچھے چلنے والوں کو پکارتا ہے یعنی جو اس کا گروہ ہیں۔ لِيَكُونُوا مِنْ اصحب السَّعِيرِ تاکہ وہ جہنم کا ایندھن بن جائیں ۔ اب یہ کھلی کھلی وارنگ، یہ تنبیہ ، اتنی وضاحت کے ساتھ اور اس تسلسل اور ربط کے ساتھ دنیا کی کسی اور کتاب میں آپ کو نہیں ملے گی۔ پہلے بتا دیا ہے دھوکا دینے والا ہے، دھوکا دینے والا بھی ایسا کہ اس سے بڑھ کر کوئی دھوکا دینے والا نہیں ہے اور دھوکا دینے والا تمہارا دشمن ہے اس سے تم خیر کی کیا توقع رکھتے ہو اور اس کی چال یہ ہے کہ دنیا کی زندگی تمہیں اچھی دکھائی دے گی اور اس چال میں جب تم پھنس گئے تو جس کو اچھا سمجھتے تھے وہی برا ہوتا چلا جائے گا یہاں تک کہ تم انتہائی مکروہ انجام کو پہنچو گے۔ جن خوبصورت چیزوں کی تم نے پیروی کرنے کی کوشش کی ، جن سے دل لبھانے کی کوشش کی وہ لازماً تمہیں چھوڑ دیں گی ، لازماً ان کے تتبع سے تمہیں کچھ بھی ہاتھ نہیں آئے گا سوائے دھو کے اور فریب کے ، سوائے اس کے کہ تم حسرت کے ساتھ جان دو اور دوبارہ واپس اس دنیا میں لوٹنے کی کوشش کرو کہ کاش ہم اس رستہ پر صحیح طریق پر اپنی حفاظت کرتے ہوئے چلتے اور شیطان کے دھوکے میں نہ آتے ۔ یہ حق ہے۔ جب اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے یہ میرا وعدہ حق ہے، یہ حق ہے ایسا ہی ہوگا جو چاہو کرتے پھر و تم اس انجام سے بچ نہیں سکتے کہ شیطان جس کو تم نے دوست بنالیا جس کی باتیں مان لیں وہ دھو کے باز ہے اور دھو کے باز ایسا جو تمہارا دشمن، تمہارے حق میں دھوکا نہیں کرے گا ہمیشہ تمہارے خلاف دھوکا کرے گا۔ یہ زندگی کا خلاصہ ہے اور اس خلاصہ کو ہم ہمیشہ بھول جاتے ہیں ۔ یہ ہمارا پہلا سبق ہے جو جب سے زندگی بنی اور مکمل ہوئی اور جب سے مذہب کا آغاز ہوا اس وقت سے یہی وہ رستہ ہے جو ہمیشہ سے چل رہا ہے۔ ہمارے آباؤ اجداد ، ان کے آباؤ اجداد ، ان کے ، آباؤ اجداد سب اسی رستہ پر چلے ہیں اور الا ماشاء اللہ سب نے دھوکا کھایا ہے۔ ایک بات میں پہلے