خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 77 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 77

خطبات طاہر جلد 17 77 خطبہ جمعہ 6 فروری 1998ء نہیں رکھیں گے تو جس راہ سے انعام ملتے ہیں اسی راہ پہ مغضوب ہو کر مارے جائیں گے یا اس راہ سے بہکائے جائیں گے اور اس راہ سے ہٹ جائیں گے اور شیطان صراط مستقیم پر ہر بھیس میں آتا ہے ہر پہلو سے حملہ آور ہوتا ہے۔ چنانچہ قرآن کریم فرماتا ہے ثُمَّ لَا تِيَنَّهُم مِّنْ بَيْنِ أَيْدِيهِمْ پھر میں ان کے پاس ضرور آؤں گا ان کے سامنے سے وَمِنْ خَلْفِهِمْ اور ان کے پیچھے سے بھی وَعَنْ ايْمَانِهِمْ اور ان کی دائیں طرف سے بھی وَ عَنْ شَبَابِلِهِمْ اور ان کے بائیں طرف سے بھی ولا تَجِدُ أَكْثَرَهُمْ شُكِرِينَ اور تو دیکھے گا کہ اکثر تیرے بندے شکر گزار نہیں ہیں ۔ اب کوئی طرف نہیں چھوڑی شیطان نے ، سامنے سے بھی آئے گا، پیچھے سے بھی آئے گا ، دائیں سے بھی اور بائیں سے بھی ۔ دائیں اور بائیں میں آ میں ایک مفہوم مذہب یا دنیا بھی ہو سکتے ہیں۔ دائیں طرف سے وہ مذہب کے رستہ سے بھی حملہ آور ہوگا اور دنیا کی حرص دلا کر اس طرف سے بھی حملہ آور ہو حملہ آور ہوگا۔ تو یہ وہ صراط مستقیم کا رستہ ہے جسے ہم نے اختیار کیا ہے اور جو بلاؤں سے بھرا پڑا ہے اور جب تک کامیابی سے اس راہ سے گزر نہ جائیں ۔ إلى يَوْمِ يُبْعَثُون جب تک انسان کی بعثت اخروی ہو جائے اس وقت تک ہم خطرہ سے پاک نہیں ہیں۔ یہ تنبیہہ ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اور ہمیں بتایا گیا ہے کہ یہ پہلی کہانی ہے مذہب کی اور یہی تمہاری کہانی ہے اسی سے تم آزمائے جاؤ گے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : لَامْكَنَ جَهَنَّمَ مِنْكُمْ اَجْمَعِین اور جس نے بھی تیری پیروی کی ان سب کو میں جہنم سے بھر دوں گا ۔ پھر آگے سلسلہ شروع ہو جاتا ہے آدم کا، پھر کیسے شیطان نے ان کو دھوکہ دینے کی کوشش کی اور ایک حد تک دھوکا دے دیا۔ پھر آخر پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : وَ نَادَهُمَا رَبُّهُمَا أَلَمْ أَنْهَكُمَا عَنْ تِلْكُمَا الشَّجَرَةِ وَ اَقُلْ لَكُمَا إِنَّ الشَّيْطَنَ لَكُمَا عَدُوٌّ مُّبِينٌ کہ تم دونوں کو میں نے یہ متنبہ نہیں کر دیا تھا کہ یہ شیطان جس نے تمہیں بہکایا ہے یہ تمہارا کھلا کھلا دشمن ہے یہ تنبیہہ اس رستہ پر چلنے سے پہلے کی گئی تھی اور سب سے پہلی تنبیہہ جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسان کے لئے نازل ہوئی ہے۔ یہی تنبیبہ تھی کہ اب تمہیں ہم سیدھے رستہ پر چلا ئیں گے لیکن اس رستہ کے خطرات سے پہلے متنبہ کر رہے ہیں اور ہم تمہیں کھلم کھلا بتا رہے ہیں کہ یہ شیطان تمہارا دشمن ہے، کھلا کھلا دشمن ہے اس سے دھوکا نہ کھا جانا۔ یہ وہی مضمون ہے جو بنی نوع انسان کو مخاطب کر کے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اس نئے دور میں بیان فرمایا یعنی وہ دور حضرت اقدس محمد رسول الله صل الله له سلیم کے وقت سے شروع ہوتا ہے۔ یہ سورۃ فاطر کی آیات چھ تا آٹھ ہیں :