خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 686 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 686

خطبات طاہر جلد 17 686 خطبہ جمعہ 2 اکتوبر 1998ء حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے انہی قربانیوں کا ذکر اپنے اشعار میں بھی بکثرت فرمایا ہے اور ان اشعار کے علاوہ تحریرات میں بھی آنحضور صلی السلام کی خاطر آپ مالی شما السلام کے ساتھیوں کے جو خون بہائے گئے ہیں ان کا ذکر بھی ملتا ہے۔ چونکہ جو تراجم تھے، بہت سی عربی زبان کی تحریریں ہیں وہ شعر بھی اور نثر بھی اس لئے چونکہ تراجم جو تھے ان پر مجھے تسلی نہیں تھی جب تک میں خود تفصیل سے نظر نہ ڈالتا اور اچھا ہوا کہ وہ نظر ڈالی گئی کیونکہ بہت جگہ ترجموں میں سقم رہ گئے تھے معلوم ہوتا ہے ترجمے بعد میں کئے گئے ہیں کسی اور نے کئے لیکن جو ترجمے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے خود کئے وہ تو بہر حال درست ہیں اور اگر چہ وہ معنوی رنگ رکھتے ہیں بعض دفعہ با محاورہ ہیں لیکن یقیناً سو فیصدی درست ہیں ۔ تو اس لئے اس بحث میں پڑنے کی بجائے کہ کون سا لفظ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تحریر ، اپنے ہاتھ کا ترجمہ تھا اس کا وقت نہیں تھا کیونکہ اب ربوہ کو بھیجتا تو وہاں سے وہ تحقیق کرتے ، بتاتے کہ اس کتاب کا ترجمہ کب ہوا۔ اس ترجمہ میں جو پہلی اشاعت تھی ، مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے خود اپنے ہاتھ سے ترجمہ کیا تھا کہ نہیں اس لئے اس تحقیق و جستجو کا وقت نہ ہونے کی وجہ سے میں نے از خود جو ترجمہ کیا ہے وہ میں آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں اور سر دست چند اشعار میں لے سکا ہوں کیونکہ اتنا وقت نہیں تھا کہ تمام اشعار اور عربی تحریروں کا بذات خود ترجمہ کر سکوں ۔ فرماتے ہیں: عليهم قَامُوا بِأَقْدَامِ الرَّسُولِ بِغَزُوهِمْ كَالْعَاشِقِ الْمَشْغُوفِ فِي الْمَيْدَانِ فَدَمُ الرِّجَالِ لِصِدْقِهِمْ فِي حُبِّهِمْ تحت السُّيُوفِ أُرِيقَ كَالْقُرْبَانِ ( آئینہ کمالات اسلام ، روحانی خزائن جلد 5 صفحہ : 591) صحابہ رضوان اللہ میم آنحضرت سلی یا ایلم کے میدان جنگ میں اقدام کی وجہ سے اپنے غزوات کے دوران ایک عشق میں مبتلا عاشق کی طرح ڈٹ جایا کرتے تھے یعنی اقدام آنحضرت صلی الا السلام کا تھا۔ زوات میں آپ ملا یا ایلیم سب سے آگے چلتے تھے اور آپ سی ٹی ایم کے پیچھے پیچھے آپ ملا تھا ایم کے آپ صلی اقدام کو دیکھتے ہوئے صحابہ بھی بڑھا کرتے تھے تو غزوات میں وہ بڑھتے تو تھے مگر ایسے بڑھتے تھے جیسے ایک عاشق مشغوف ہو، جس کو عشق نے پاگل کر دیا ہو۔