خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 685
خطبات طاہر جلد 17 685 خطبہ جمعہ 2 اکتوبر 1998ء حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت ہے جس میں حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قربانی کا ذکر ہے۔ یہ مسند احمد بن حنبل سے لی گئی ہے۔ حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ : حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اس حالت میں پایا گیا کہ آپ کا پیٹ چاک تھا، ہند نے آپ کا کلیجہ نکال کر چبا لیا تھا مگر اسے نگل نہیں سکی تھی ۔“ 66 معلوم ہوتا ہے کلیجہ نکال کے چبانے کی کوشش کی ہے تو پھر وہ الٹ گئی ، اس کو الٹی آ گئی جس کی وجہ سے جس طرح وہیل مچھلی نے حضرت یونس کو باہر پھینک دیا تھا اسی طرح یہ کلیجہ اس کے پیٹ میں جانا مقدر نہیں تھا ، یہ کلیجہ معز ز تھا۔ اس کے چبانے کے متعلق لوگ کہتے ہیں یعنی عام طور پر روایات میں آتا ہے کہ کلیجہ چبا کے کھا گئی یہ غلط ہے۔ کلیجہ چبانے کی کوشش کی تھی لیکن اس کے ناپاک پیٹ کو اللہ نے توفیق نہیں دی کہ وہ اس نا پاک پیٹ میں حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا کلیجہ ڈال سکے۔ چنانچہ اس روایت میں یہ تفصیل ہے کہ الٹ دیا اس نے اور کلیجہ نہ کھا سکی۔ رسول الله صلى اله السلام نے دریافت فرمایا کہ کیا اس نے حمزہ کے کلیجہ کا کچھ حصہ نگلا ہے؟ اب اس سے آنحضور صل للہ السلام کی باریک نظر کو دیکھیں ۔ آپ صلی لا الہ تم کو یقین تھا کہ ناممکن ہے کہ وہ نگل گئی ہو ) عرض کی گئی نہیں کچھ حصہ بھی نہیں نگل سکی۔ آپ ملی لٹا لیا ہم نے فرمایا: اللہ نے حمزہ کا کوئی حصہ آگ میں ڈالنا پسند نہیں کیا ۔“ میں کیا۔“ پس یہ استنباط محض میرا ذوقی استنباط نہیں۔ میرا بھی یہی استنباط تھا مگر مجھے بے انتہا خوشی ہوئی جب میں نے آنحضرت صلی اللہ الہ سلیم کے لفظوں میں یہ بات سن لی کہ اس لئے خدا نے پسند نہیں کیا۔ اس روایت میں آتا ہے کہ: 66 آنحضرت صلی اللہ سلیم نے حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ستر بار نماز جنازہ پڑھائی ۔“ (مسند احمد بن حنبل، مسند المكثرين من الصحابة، مسند عبد الله بن مسعود ، حدیث نمبر : 4414) کس طرح ایسا ہوا کہ ایک ہی نماز جنازہ ستر بار پڑھائی گئی ہو ۔ وجہ یہ تھی کہ جب بھی کسی شہید کا جنازہ پڑھتے تھے یعنی اُحد میں اور ستر شہداء تھے تو ہر ایک کے ساتھ حضرت حمزہ کو شامل کر لیتے تھے اس لئے اس میں کوئی مبالغہ نہیں کہ آنحضور صلی الہ سلیم نے ستر بار حضرت حمزہ کی نماز جنازہ پڑھائی۔