خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 660 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 660

خطبات طاہر جلد 17 660 خطبہ جمعہ 18 ستمبر 1998ء کے لوگ کیسے اعتماد کر سکتے تھے جو آنحضرت صلی ا لی ایم کے زمانہ کے رہنے والے تھے، اولین مخاطب تو وہی تھے۔ تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے نبی امی صادق مصدوق کہہ کر یہ فرما دیا کہ وہ جانتے تھے ان کے سامنے کلام الہی نازل ہو رہا تھا کہ ایک امی پر ایک ایسا کلام نازل ہو رہا ہے جو اپنی طرف سے بنا نہیں سکتا اور جو خبریں دیتا ہے وہ صرف دور کی خبریں نہیں نزدیک کی خبریں بھی دیتا ہے اور صادق ہے کیونکہ اس کی گواہی پر ایک خدا کھڑا ہے جو کامل قدرتوں کا مالک ہے ۔ پس آنحضرت صلی السلام کی خبروں کی شان بڑھانے کے لئے امی کہنا ضروری ہے۔ ایک شخص جو اپنی طرف سے کچھ بنا سکتا ہی نہیں اور پھر اس کی ہر بات پوری ہو، اس شان سے پوری ہو کہ جس وقت کلام شروع کیا ہے اس وقت سے یہ خبروں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے اور جب وفات ہوئی تو یہ خبروں کا سلسلہ بند نہ ہوا اور قیامت تک بند نہیں ہوگا۔ بے شمار خبریں ہیں جو ہماری زندگیوں میں ہماری نسلوں نے پوری ہوتی دیکھ لی ہیں مگر بے شمار ایسی ہیں اور کوئی علم نہیں کہ وہ اس سے بہت زیادہ ہوں جو ہم نے پوری ہوتی دیکھ لی ہیں ۔ میں یہ اندازہ کرتا ہوں کہ بعد میں آنے والی خبریں ان خبروں سے بہت زیادہ ہیں جن کو ہم نے پورا ہوتا دیکھا ہے کیونکہ ہر دور کا انسان یہی سمجھا کرتا ہے کہ میں نے سب کچھ دیکھ لیا ہے۔ آنحضرت صلی لا الہ سلیم کے زمانے میں جیسا کہ بعض حدیثوں سے پتا چلتا ہے کہ میں نے اب سب کچھ دیکھ لیا اب میرے ہوتے ہوئے ساری باتیں پوری ہو گئی ہیں حالانکہ بعض باتوں کا معمولی سا حصہ پورا ہوا تھا بہت کچھ پورا ہونے والا باقی تھا۔ پس آنحضرت صلی ال ایام قیامت تک صادق و مصدوق بنے رہیں گے اس وجہ سے اس وجہ سے میرا یہ استنباط ہے کہ ہم سمجھ رہے ہیں کہ ہم نے سب کچھ دیکھ لیا مگر بعض صحابہ بھی تو یہی سمجھا کرتے تھے لیکن بعد کے آنے والے وقت نے بتایا کہ غلط ہے۔ رسول اللہ صل الا السلام کا احاطہ نہیں ہو سکتا۔ جس طرح اللہ کے علم کا احاطہ نہیں ہو سکتا اسی طرح جس کو خدا نے اپنا کامل علم بخشا ہے اس کا بھی احاطہ نہیں ہو سکتا۔ پس قیامت تک آنحضرت صلی اللہ اسلام ہمارے سید ، ہمارے مولی، ہمارے ہادی ، نبی امی ، صادق مصدوق بنے رہیں گے۔ 66 اور آخری بات یہ کہ محمد مصطفی صلی الا ایلیم سب سے زیادہ تعریف کیا گیا خدا کی طرف سے اگر کوئی تھا تو محمدصلی الا یہ کام تھا اور مصطفی صلی الھا کی یہی تھا۔ اللہ نے اسے ہر چیز سے نتھار کے اپنے لئے چن لیا۔ جب اپنے لئے چن لیا تو لازم تھا کہ ہر قسم کے عیوب نقص، معمولی معمولی گردو غبار کے نقش بھی اس