خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 659
خطبات طاہر جلد 17 659 خطبہ جمعہ 18 ستمبر 1998ء 66 پھر فرمایا: ”ہمارے ہادی ۔ ہمارے ہادی میں مولی کا مضمون تو آہی جاتا ہے پھر اس کے علاوہ کیا بات ہے کیونکہ میں نے غور کیا ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی عبارتوں میں کوئی لفظ کلیہ زائد نہیں ہے۔ بعض مضامین اس میں ہوتے ہیں ، بعض علاوہ مضمون بھی ہوتے ہیں ۔ آ آنحضرت صلی الله سلام ہر اس شخص کے لئے ہادی ہیں خواہ وہ ہدایت پائے یا نہ پائے ۔ پہلا مضمون کامل غلاموں کے حق میں اطلاق پار ہا تھا اور ہادی کا مضمون تمام بنی نوع انسان کے حق میں یکساں اطلاق پاتا ہے۔ آپ صلی ایتم نے صحیح رستہ ہی دکھانا ہے اور دو معنے بنتے ہیں اس کے۔ ایک یہ کہ آپ صلی ا ہم صحیح رستے کے سوا کوئی رستہ دکھا ہی نہیں سکتے جب بھی رستہ دکھا ئیں گے صحیح رستہ دکھا ئیں گے اور اس کو بھی دکھائیں گے جو اعراض کرنے والا ہو اور اس کو بھی دکھائیں گے جو غلامانہ آپ صلی ال السلام کی اطاعت کرنے والا ہو۔ پس بادی کا لفظ حاوی ہے اور تمام بنی نوع انسان پر حاوی ہے اور ان کی تمام ضرورتوں پر حاوی ہے۔ چنانچہ جتنے بھی مشرکین ہیں یا خدا کی ہستی کا انکار کرنے والے ہیں یا دوسرے متکبر لوگ ان تمام لوگوں کے لئے ان کی ضرورتوں سے متعلق آنحضرت صلی الا السلام نے آگاہ فرما دیا ہے، ان کو ہدایت دے دی ہے، یہ کرو گے تو فائدہ اٹھاؤ گے اگر نہیں کرو گے تو تمہارا اپنا نقصان ہے۔ پس ہمارے ہادی فرما کر آنحضرت صلی شما ای ایم کی ایک اور شان بیان فرمائی گئی ہے۔ اور نبی جو سب جانتے ہیں کہ نبی ہیں مگر نبی بمعنی غیب کی خبریں دینے والا ۔ پس آئندہ خطرات سے ہمیں کیسے آگاہ فرمایا اگر آئندہ کے خطرات کی خبریں نہ دی ہوتیں ۔ تو ہر لفظ میں اتنی گہرائی ہے کہ جب میں ڈوب کر دیکھتا ہوں تو میں حیران رہ جاتا ہوں کہ کچھ بھی باقی نہیں چھوڑا۔ کیا ہے یہ کتاب نہ چھوٹا چھوڑتی ہے نہ بڑا چھوڑتی ہے ۔ قیامت تک کے لئے جتنے بھی خطرات بنی ہے۔ ہی نوع انسان کو در پیش ہو سکتے تھے اس نبی نے ان کی خبریں دی ہیں لیکن یہ نبی کیا ہے ”نبی اقی کلیہ بظاہر تعلیم سے بے بہرہ لیکن امی صادق و مصدوق ایسا امی ہے جس نے خدا کے حق میں ہمیشہ سچ بولا اور پوری سچائی کے ساتھ خدا کی صفات بیان فرمائیں جو مضمون پہلے گزر چکا ہے اس کے نتیجہ میں مصدوق ہو گیا یعنی خدا تعالیٰ نے اس کی ہر بات کی تائید فرمائی اور ہر بات میں اس کی صداقت کی گواہی دی ۔ اب یہ نبی امی کے ساتھ صادق و مصدوق ہونا ضروری تھاور نہ ایک ایسا خبریں دینے والا جس کو ظاہری علم بھی کوئی نہ ہو اس پر جب خبریں پوری ہونگی اس وقت تو اعتماد کیا جا سکے گا مگر اس زمانہ