خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 620
خطبات طاہر جلد 17 620 خطبہ جمعہ 4 ستمبر 1998ء اب ایک اور روایت ہے جو عبد الله بن عمرو للہ بن عمرو سے مروی ہے : قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ ﷺ : " كَيْفَ أَنْتَ إِذَا بَقِيتَ فِي حُقَالَةٍ مِنَ النَّاسِ؟ قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ كَيْفَ ذَلِكَ - حضرت حسن سے مروی ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر و رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ آنحضرت صلی الله ای تم نے مجھ سے فرمایا کہ جب تو رذیل اور کمینے لوگوں میں ہو گا تو اس وقت تیرا کیا حال ہوگا ۔ میں نے عرض کی یا رسول اللہ کیسے ہو گا کہ میں رذیل اور کمینے لوگوں میں ہوں گا ۔“ 66 اب اس میں ایک اور بھی خبر تھی جس کی طرف عموماً لوگوں کی نظر نہیں جاتی۔ یہ جس کو مخاطب فرمایا اس کی لمبی ب اس میں ایک اور بھی برسی جس کی طرف عموما لوگوں کی نظر میں جاتی۔ یہ جہ عمر کی خوشخبری بھی تھی اور یہ بد خبر بھی تھی کہ اس لمبی عمر کے نتیجہ میں تو اچھے لوگوں سے نکل کر ایک ایسے دور میں داخل ہو جائے گا جس میں اکثریت کمینوں کی ہوگی ۔ تو یہ واقعہ بہت لمبی عمر پانے کے نتیجہ میں ہو سکتا تھا۔ پس یہ حدیث رسول اللہ صلی السلام کی سچائی اور مخبر صادق ہونے کی بھی ایک دلیل ہے۔ کیسے ہوگا ؟ آپ صلی ا لی ایم نے فرمایا جب ان کے عہد فاسد ہو جائیں گے، امانتیں اٹھ جائیں گی اور وہ با ہم اس طرح ہو جائیں گے۔“ انگلیاں انگلیوں میں ڈال دیں یہ انگلیاں مل نہیں سکتیں جتنا مرضی زور لگالیں ، تو ان کے درمیان اتنے فاصلے بڑھ جائیں گے ، ایسی روکیں حائل ہو جائیں گی کہ ان کو ملانے کی کوشش بھی کی جائے تو نہیں ملا سکو گے اور ایسے لوگ جو پھٹ جایا کرتے ہیں ان کو ملانے کی ہر کوشش ناکام ہو جایا کرتی ۔ ہوجایا ہے۔ اب دیکھ لیں کیسی عمدہ تمثیل کے ساتھ رسول اللہ صلی علیہ السلام نے ایسی بدقوموں کا حال بیان فرمایا ہے جن کی امانتیں اٹھ چکی ہوں ، جن کے عہد فاسد ہو چکے ہوں ، ان کے دل لا زما پھٹتے ہیں نا ممکن ہے کہ پھر ان کو اکٹھا رکھا جا سکے اور اس طرح پھٹتے ہیں کہ لوگ بڑے بڑے دعوے کریں گے، کوشش کریں گے، بورڈ تشکیل دئے جائیں گے کہ قوم کو دوبارہ اکٹھا کرنے کے لئے کوئی ذرائع تجویز کرو اور بعض جگہ شریعت بل بھی لائے جائیں گے جو اکٹھا کرنے کی بجائے اور بھی زیادہ پھاڑ دیں گے قوم کو۔ تو یہ حال ہے۔ آنحضرت صلی ایلم کی ہر پیشگوئی سو فیصد سچی نکلتی ہے۔ اپنی ساری تفصیلات کے ساتھ سچی نکلتی ہے۔ یوں فرمایا یہ حال ہو گا۔