خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 619
خطبات طاہر جلد 17 619 خطبہ جمعہ 4 ستمبر 1998ء کریں تو ان کو معلوم ہوگا کہ مردوں کے بھی بتاتا ہوں اور کیوں نہ بتاؤں کیونکہ رسول اللہ صل الله السلام عدل کے نہایت اعلیٰ مقام پر تھے جس سے اوپر عدل کا مقام ممکن نہیں ہے ۔ آپ صلی ا یہ تم ہمیشہ دونوں کی باتیں بتایا کرتے تھے اور میں تو وہی باتیں کہتا ہوں جو آنحضرت صلی اللہ عمر بھر فرماتے رہے۔ اب بخاری کتاب الرقاق سے ایک حدیث لی گئی ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی الا السلام نے فرمایا: وو جب امانتیں ضائع ہونے لگیں تو قیامت کا انتظار کرنا۔ سائل نے عرض کیا یا رسول للہ صلی ال ام ان کے ضائع ہونے سے کیا مراد ہے۔ فرمایا جب نااہل لوگوں کو حکمران بنایا جائے تو قیامت کا انتظار کرنا۔“ (صحیح البخاری، کتاب الرقاق، باب رفع الأمانة - حديث نمبر : 6496) اس کا ایک پہلو تو میں پہلے جرمنی میں بیان کر چکا ہوں کہ اس میں جماعتی عہدیداروں کو بھی یہی نصیحت ہے کہ جو امانتیں ان کے سپرد ہیں اس کے مطابق اچھے عہدیدار چنیں۔ اگر انہوں نے یہ ذمہ داری ادا کرنی چھوڑ دی تو ساعت ان معنوں میں آئے گی کہ نظام جماعت یکسر پلٹ جائے گا اور گویا قیامت آگئی ۔ لیکن جو دوسرا معنی ہے اس میں إِذَا أُسْنِدَ الأَمْرُ إِلَى غَيْرِ أَهْلِهِ فَانْتَظِرِ السَّاعَةَ ۔ جب کوئی امر لوٹا یا جائے کسی کو یعنی حکومت عطا کی جائے عوام الناس کے مشورے اور ان کے ووٹوں سے اور وہ اس کا اہل نہ ہو تو پھر ساعت کا انتظار کرنا۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ پھر اس کے بعد قیامت آجائے گی۔ ساعت سے مراد بہت سی باتیں ہیں جن کا اہل لغت ذکر کرتے ہیں۔ ایک ساعت سے مراد یہ ہے کہ معاشرہ پر گویا قیامت ٹوٹ پڑے گی۔ اگر تم نے غلط عہدیداروں کو چن لیا تو پھر ہمیشہ نظام بگڑتا چلا جائے گا اور ان معنوں میں ساعت کا یہ مطلب ہوگا کہ چونکہ ساعت شریر لوگوں پر آنی ہے اور اس کے متعلق رسول اللہ صلی السلام نے واضح خبر دی ہوئی ہے تو تمہارا معاشرہ ذلیل سے ذلیل تر اور شریر سے شریر تر ہوتا چلا جائے گا ۔ یہ دوسرا معنی بھی بعینہ درست بنتا ہے یہاں تک کہ ان کی پکڑ کا وقت آ جائے گا۔ اب اس مضمون کو آپ اپنے ذہن میں دہرا کر ایسے معاشروں کا تصور کر سکتے ہیں جہاں یہی قیامت ٹوٹ پڑی ہے۔ دن بدن بد سے بدتر حالات صرف اس لئے ہو رہے ہیں کہ عوام الناس نے اپنے عہدیداروں کا انتخاب کرتے وقت امانت کا حق ادا نہیں کیا۔ جب امانت کا حق ادا نہیں کیا تو پھر اللہ تعالیٰ بھی ان سے خائن والا معاملہ کرتا ہے جس کی تفصیل اس حدیث میں بیان ہوئی ہے۔