خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 288 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 288

خطبات طاہر جلد 17 288 خطبہ جمعہ 24 اپریل 1998ء انگلستان میں اگرچہ بہت برکت پڑی ہے کثرت سے لوگ باہر سے آئے ہیں مگر بہت پیارے پیارے چہرے ہیں ، بہت نیک لوگ ، مسجدوں میں آنے جانے والے، جماعتی کاموں میں آگے آگے وہ سب غائب ہو گئے ۔ پس موت ایک اتنی یقینی حقیقت ہے کہ زندگی اتنی یقینی نہیں کیونکہ بچہ پیدا ہوتے ہی مر جاتا ہے یعنی زندگی ابھی وجود میں نہیں آئی کہ وہ مر گیا لیکن موت پر زندگی کو ان معنوں میں فتح نہیں کہ موت اٹل ہے اور زندگی اٹل نہیں ہے۔ زندگی کی لاکھوں قسمیں ہیں جو پہنچنے سے پہلے ضائع ہو جاتی ہیں اور موت ان پر غالب آجاتی ہے۔ پس یہ موت کا جو پہلو ہے اس کو اگر آپ پیش نظر رکھیں تو اس وقت کا تصور کریں جب بالآخر خدا کو جان دینی ہے، جب دنیا چھوڑ کر جانا ہوگا تو پھر کس حسرت سے آپ دیکھیں گے اپنی طرف حسرت کے ساتھ دیکھنے والوں کو ۔ وہ روئیں گے آپ کی مدح کے گیت بعد میں گاتے رہیں گے مگر آپ اس وقت جانتے ہوں گے کہ آپ کی خاطر یہ کچھ بھی نہیں کر سکتے ۔ ان کی تعریفیں بے کار جائیں گی ، ان کا ذکر خیر، ان کی محافل ، ان کی مجالس ، اِن کے چالیسویں سب بے معنی ہیں ۔ جس نے جانا تھا وہ مرتے وقت جانتا ہے کہ میں ایک ایسے قادر مطلق خدا کی طرف جا رہا ہوں جس کو اس بات کی ادنیٰ بھی پروا نہیں ہوگی کہ میرے پیچھے لوگوں نے کیا واویلے کئے اور کیسے کیسے نوحے پڑھے۔ یہی دنیا کے چکر ہیں صرف ، فلاں پیر مر گیا اس کے قل ہو رہے ہیں اس پہ لوگ اکٹھے ہو رہے ہیں اس کی تعریف کے گن گائے جا رہے ہیں اور ان کو پتا ہی نہیں کہ جس جگہ وہ حاضر ہوا ہے وہاں ان چیزوں کی کوڑی کی بھی قدر نہیں ۔ آخر ایک دن مرنا ہے۔ کیا وہ ان ناکامیوں کو دیکھ کر بھی اس تجارت کی فکر میں نہیں لگ سکتے جہاں خسارہ کا نام و نشان ہی نہیں اور نفع یقینی ہے ۔ زمیندار کس قدر محنت سے کا شتکاری کرتا ہے مگر کون کہہ سکتا ہے کہ نتیجہ ضرور راحت ہی ہوگا۔“ ( رپورٹ جلسہ سالانہ 1897ء،صفحہ:162،161) پس اس اقتباس کے ساتھ میں آج کا یہ خطبہ ختم کرتا ہوں ۔ اس میں بہت سے پیغام ہیں جماعت کے نام اور ان کو مزید تفصیل سے کھولنے کی ضرورت کوئی نہیں جو کچھ میں نے کہنا تھا کہہ دیا اب اپنا حساب آپ خود رکھیں کیونکہ ہر ایک نے خود مرنا اور خدا کے حضور حاضر ہونا ہے۔