خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 203
خطبات طاہر جلد 17 203 خطبہ جمعہ 27 مارچ 1998ء ہمیں اکٹھا کر سکتے۔ پس حضور اکرم صلی سی ایم کے سپر دوہ کام کیا گیا جو آپ سلایا اپنی اپنی شخصی صلاحیتوں پر انحصار کرتے ہوئے ادا نہیں کر سکتے تھے لیکن وہ صلاحیتیں جب اللہ تعالیٰ سے تعلق جوڑ لیں تو پھر سب کچھ ادا کر سکتے تھے، ہر فریضہ ادا کر سکتے تھے۔ پس اس آیت کریمہ کا لازماً یہ مطلب نکلتا ہے کہ حضرت اقدس محمد مصطفی صلی السلام السلام کی صلاحیتیں جب خدا کی طاق ، خدا کی طاقتوں سے جڑ گئیں اس وقت آپ صلی ا السلام کے دل کی تمام دعائیں آئندہ کے لئے مقبول ہوئیں اور وہ عظیم الشان فریضہ جو سب دنیا کو باندھ دینے کا تھا وہ ان دعاؤں سے ، ان محبت بھری دعاؤں کے نتیجہ میں بالآخر پورا ہوا اور پورا ہوگا ۔ پس ہم سب کے لئے اس میں کتنا گہر اسبق ہے۔ ہم نے بھی اپنے اپنے دائرہ میں لوگوں کے دل باندھنے ہیں اور یہ دائرے پھیلتے پھیلتے اب ایک سو ساٹھ ممالک سے بھی اوپر جاچکے ہیں ۔ یہاں بیٹھے ان سب کو ایک لڑی میں پرونا میرے جیسے عاجز انسان کے لئے تو یقیناً ناممکن ہے مگر حضرت اقدس محمد مصطفی سلیھا السلام کی پیروی کرتے ہوئے اور دو باتوں پر انحصار کرتے ہوئے ایک یہ کہ آنحضرت صلی لا الہ سلم کی دعائیں ہماری محمد ہیں اور ان دعاؤں کی ہواؤں کے رخ پر اگر ہم چلیں گے تو ضرور کامیاب ہونگے۔ دوسرے ذاتی طور پر ہم میں سے ہر ایک جو کسی ایک دائرہ کا نگران ہے، اسے اکٹھا کرنا چاہتا ہے اس پر فرض ہے کہ وہ اس کے لئے دعائیں کرے اور محبت کے ساتھ دعائیں کرے کیونکہ رسول اللہ صلی اله السلام کی دعا ئیں محبت سے عاری نہیں تھیں ۔ لِنتَ کے لفظ میں یہ محبت کا مضمون داخل ہے اور رحمت کے نے اسے اور بھی اُجا گر کر دیا۔ لفظ پس مجلس شوری پاکستان کو خصوصاً موجودہ حالات میں اس نکتہ کو یاد رکھنا اور اس کے مطابق عمل کرنا انتہائی ضروری ہے کیونکہ مخالف ہوائیں بھی چل رہی ہیں، ایسی مخالف ہوائیں چل رہی ہیں جو اس مضمون کے بالکل برعکس نتیجہ پیدا کرنا چاہتی ہیں۔ جہاں جہاں بھی جماعت احمد یہ کو اللہ تعالیٰ کے فضل سے نمایاں کامیابیاں نصیب ہوئی ہیں اور پاکستان کے باشندوں نے آنکھیں کھول کر شرح صدر کے ساتھ احمدیت کو قبول کیا ہے کہ انہیں کامل یقین ہے کہ یہ احمدیت وہی مذہب ہے جو آنحضرت صلی الا ای ایم کے ہاتھ سے جاری ہوا اور سرِ مو بھی اس میں فرق نہیں ۔ جب تک یہ یقین نہ ہوتا ناممکن تھا کہ پاکستان میں احمدیت پھیلتی کیونکہ احمدیت کے پھیلنے کے نتیجہ میں بہت سی مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، قدم قدم پر قربانیاں ہیں۔ واقعہ گھر جلائے جاتے ہیں ، فرضی طور پر نہیں واقعہ