خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 202
خطبات طاہر جلد 17 202 خطبہ جمعہ 27 مارچ 1998ء یہ آیت کریمہ جس کی میں نے تلاوت کی ہے یہ بارہا تلاوت کر چکا ہوں ۔ نہ صرف پاکستان کی مجلس شوری کے موقع پر بلکہ دیگر ممالک کی مجالس شوری کے موقع پر بھی انہی آیات کی اکثر تلاوت ہوتی رہتی ہے لیکن ہر دفعہ غور پر کچھ نہ کچھ ایسا مضمون سجھائی دیتا ہے جس کی طرف پہلے خیال نہیں گیا تھا لیکن مجھے چونکہ پوری طرح یاد نہیں کہ پہلے کیا کچھ کہ چکا ہوں اس اُمید پر کہ اللہ تعالیٰ کچھ اور نکتے بھی سمجھائے گا جو اس آیت سے تعلق رکھتے ہیں، میں مختصر تبصرہ کرتا ہوں۔ فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللَّهِ لِنْتَ لَهُمْ آنحضرت صلى الله السلام کو مخاطب کر کے فرمایا گیا ہے کہ چونکہ تو رحمت ہے فَبِمَا رَحْمَةٍ کا مطلب ہے اللہ کی رحمت کی وجہ سے مگر اصل میں رحمت کا اشارہ آپ صلی الہ کی سلام کے رحمۃ للعالمین ہونے کی طرف ہے ۔ فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللهِ لِنْتَ لَهُمُ جو بھی آنحضرت صل الله السالم کے گرد و پیش میں تھے پھر جنہوں نے بعد میں آنا تھا میرے نزدیک لِنْتَ لَهُمْ کا فعل ان سب پر واقع ہو رہا ہے کیونکہ آپ صلی ای تیم رحمت صرف عربوں کے لئے تو نہیں تھے ، آپ صلی ال ای ایم رحمت صرف ان کے لئے تو نہیں تھے جو غیر عرب تو تھے مگر آپ صلی السلام کی صحبت سے فیض یاب ہوئے۔ رحمت کا لفظ واضح طور پر یاد دلا رہا ہے کہ آنحضرت صلی الی تم کواللہ تعالیٰ نے رحمۃ للعالمین قرار دیا تھا۔ تو جس نے سارے جہان کو ایک رسی میں باندھنا ہو ، جس نے گل جہان کو جو اس وقت موجود تھا یا جس نے بعد میں دریافت ہونا تھا حضرت اقدس محمد مصطفی صلی امام کی یتیم کے اس جھنڈے تلے اکٹھا کرنا تھا جو خدا نے آپ علیہ السلام کے ہاتھ میں تھمایا تھا اس کے لئے لِنتَ لَهُمْ کی صفت انتہائی ضروری تھی کیونکہ اگر اکٹھا کرنے والے کو ان سے جن کو وہ اکٹھا کرنا چاہتا ہے بے حد پیار اور محبت نہ ہو تو وہ اکٹھا نہیں کر سکتا۔ پس آپ صلی ای ایم کا اکٹھا کرنے کا فعل چونکہ اس زمانہ تک محدود نہیں تھا اس لئے لنت سے متعلق ہمیں لازما یہ نتیجہ نکالنا پڑے گا کہ حضرت اقدس محمد مصطفی صلی ای ایم ہر زمانہ کے انسان سے محبت رکھتے تھے اور ہر زمانہ کے انسان کے لئے یہی آپ کی محبت ہے جو ان کو ایک لڑی میں پرو دے گی ۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ عقلی طور پر سوچنے کی بات ہے کہ آنحضرت صلی ای ایم کو گزرے ہوئے آج سے پہلے چودہ سو سال سے زائد برس گزر چکے ہیں اور آپ صلی السلام کی آج کل ہم سے ، اور تمام بنی نوع انسان سے محبت ، ہمیں کیسے ایک لڑی میں پرو سکتی ہے۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ دراصل آنحضرت صلی السلام کی دعا ئیں تھیں جنہوں نے آئندہ کام آنا تھا کیونکہ اور کوئی براہ راست ذریعہ نہیں ہے کہ آپ مالی لا السلام وو