خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 161
خطبات طاہر جلد 17 161 خطبہ جمعہ 6 مارچ 1998ء حفاظت فرماتا ہے کہ اس کے بغیر وہ پودے اپنی تمام تر صلاحیتوں تک نہیں پہنچ سکتے ، یہ اللہ کا ہاتھ ہے جوان کو غیر سے بچاتا ہے اور ایسا پاکیزہ ماحول پیدا فرماتا ہے کہ وہ پودے اپنی نشوونما کی انتہا تک پہنچ سکیں ۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں اس کے لبوں سے حکمت اور معرفت کی بات نکل سکے۔“ یہ ہو ہی نہیں سکتا ممکن ہی نہیں ہے۔ بلکہ ہر ایک قول اس کا فساد کے کیڑوں کا ایک انڈہ ہوتا ہے۔“ جس کا نفس اس پر غالب ہواس ۔ اس پر غالب ہو اس کے انڈوں سے کیڑے نکلتے ہیں اور وہ فساد کے کیڑے ہوتے ہیں۔ پس جو اپنے نفس کے جوشوں سے مغلوب ہو جائے اس کے گھر میں دیکھیں فساد ہی ہوگا، اس کے ماحول میں فساد ہوگا، اس کے تعلقات میں فساد ہوگا۔ پس انڈوں سے ایک چوزہ نہیں نکلتا فرما یا کیڑوں سے بھرے ہوئے انڈے ہوتے ہیں۔ جب وہ پھوٹتے ہیں تو کیڑے ہر طرف پھیل جاتے ہیں ۔ پس اگر تم روح القدس کی تعلیم سے بولنا چاہتے ہو ۔ ( عرفان وہی ہے جو روح القدس سے حاصل ہو۔ ) پس اگر تم روح القدس کی تعلیم سے بولنا چاہتے ہو تو تمام نفسانی جوش اور نفسانی غضب اپنے اندر سے باہر نکال دو۔“ اب یہ وہ منازل ہیں جو مسیح موعود علیہ السلام کھول کھول کر بار بار ہمارے سامنے بیان کر رہے ہیں لیکن پہلی منزل ہی طے نہیں ہوتی ۔ ان لوگوں سے طے نہیں ہوتی جن کو پرواہ ہی نہیں کہ ہم ہیں کیا۔ اپنا عرفان جس کو حاصل نہیں ہو گا وہ عالمانہ اور گہری باتوں کا عرفان کیسے حاصل کرے گا اور جتنے دنیا میں جھگڑے ہیں یہ اسی غفلت کی حالت کی وجہ سے ہیں کہ انسان اپنے عرفان سے عاری ہے اور بظاہر عرفان کی باتیں چاہتا ہے اور بڑی بڑی ڈینگیں مار کے عرفان کی باتیں وہ ظاہر کرتا بھی ہے لیکن سب کھوکھلی ۔ ان سے جو انڈے نکلتے ہیں ان میں کیڑے پیدا ہوتے ہیں جو آگے فساد پھیلا دیتے ہیں۔ پس اگر تم روح القدس کی تعلیم سے بولنا چاہتے ہو تو تمام نفسانی جوش اور نفسانی غضب اپنے اندر سے باہر نکال دو تب پاک معرفت کے بھید تمہارے ہونٹوں پر جاری ہوں گے۔“ یہ بات اگر چہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے حوالہ سے نہیں لکھی مگر جس طرح کے روحانی عرفان کے بھید آپ کے لبوں سے جاری ہو رہے ہیں اس سے پتا چلتا ہے کہ گندے انڈے پیدا ہی نہیں ہوئے۔ ہمارے لئے تو حکم ہے کہ نکال باہر کرو مگر کچھ ایسے دل ہوتے ہیں جن میں اللہ