خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 160
خطبات طاہر جلد 17 160 خطبہ جمعہ 6 مارچ 1998ء وو یا د رکھو کہ ہر ایک جو نفسانی جوشوں کا تابع ہے۔ ممکن نہیں کہ اس کے لبوں سے حکمت اور معرفت کی بات نکل سکے ۔“ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو حکمت اور معرفت کی باتیں فرمائیں ساتھ یہ خوش خبری بھی دی کہ میرے غلاموں میں سے بہت ایسے ہوں گے جن کو حکمت اور معرفت کی باتیں ایسی سمجھائی جائیں گی کہ وہ بڑے بڑے دنیا کے عالموں کے منہ بند کر دیں گے۔ کئی لوگ مجھے خط لکھتے ہیں کہ ہمارے لئے یہ دعا کریں۔ میں کیسے دعا کروں جبکہ وہ رستہ جو مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بیان فرمایا ہے اس کو وہ اختیار نہیں کر رہے۔ وہ رخ رکھتے ہیں مشرق کا اور مجھ سے دعا چاہتے ہیں کہ میں اُن کے لئے یہ دعا کروں کہ وہ مغرب کے ممالک میں پہنچادیں ان کو، جس طرف کا رخ ہوگا اسی طرف جائیں گے۔ پس رُخ کا تعین ضروری ہے۔ فرمایا: "جو نفسانی جوشوں کے تابع ہے ممکن نہیں کہ اس کے لبوں سے سے حکمت اور معرفت کی بات نکل سکے۔“ بڑی حکمت، ایسی حکمت مت جو بڑے بڑے عالموں اور حکیموں پر غالب آجائے وہ تو دور کا معاملہ ہے نفسانی جوشوں میں مبتلا رہتے ہوئے یہ خواہش کہ ہم بہت عظیم الشان انسان بن جائیں یہ ہو ہی نہیں سکتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کو یہ علم نہیں کہ عظیم الشان انسان بننے کی خواہش ہی ان کا اندرونہ ننگا کر رہی ہے۔ ڈاکٹر سلام نے اس خواہش کے ساتھ سفر نہیں شروع کیا تھا کہ میں عظیم الشان انسان بن جاؤں بلکہ جب عظیم الشان انسان بنے تو ہمیشہ انکساری کی طرف مائل رہے اور ہمیشہ یہ خیال رہا کہ میں اپنی ذات میں کچھ بھی نہیں۔ ان کی کہانی یہ تھی کہ انہوں نے اپنے بزرگ، خدا رسیدہ والد کی دعا ئیں دیکھی تھیں اور انہی دعاؤں کے سہارے ہر قدم آگے بڑھایا ہے اور کہیں بھی اپنے نفس کی بڑائی کو اپنی عظمتوں یا ان عرفان کی باتوں کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا۔ یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے لیکن وہ لوگ جو یہ لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں سلام بنادے ان کو کبھی خیال نہیں آیا کہ یہ خواہش ہی ان کی نفسانیت کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔ اس سے کیا غرض کہ کیا ہو جائیں ، دعا یہ ہونی چاہئے کہ خدا ہمیں اپنا بنا دے اور جب ہم خدا کے بنیں گے تو پھر إنِّي لِمَا انْزَلْتَ إِلَى مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌ (القصص: 25) کا مضمون شروع ہو جاتا ہے پھر اس پر چھوڑ دو۔ تمہاری کون کون سی صلاحیتوں کو مزید اجاگر کرنا ضروری ہے اور تمہاری صلاحیتوں کی حدود تک ان کا پہنچانا ضروری ہے یہ فیصلہ اللہ کرے گا اور جن پودوں کی وہ حفاظت فرماتا ہے، یہ وجہ ہے کہ ان کی