خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 102
خطبات طاہر جلد 17 102 خطبہ جمعہ 13 فروری 1998ء کا محاورہ بیچ میں داخل کرنا یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی حیرت انگیز عقل اور فہم کی طرف اشارہ کرنے والا فقرہ ہے۔ ایک عام آدمی کہہ سکتا ہے حکومت تمہیں جب چاہے برباد کر سکتی ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ”ایک انسانی گورنمنٹ جو تم سے زبردست ہو۔“ یعنی انسانی گورنمنٹ اگر تمہارے جتھے بہت بڑے ہوں تو تم سے ڈرتی بھی ہے اور اس وقت تو چاہے بھی تو تمہیں تباہ نہیں کرتی، نہ کر سکتی ہے۔ اس لئے دونوں باتیں ہیں ان کے معبود بڑے بڑے جتھے بن جاتے ہیں اور وہ تمہارا معبود بن جاتی ہیں۔ تو فرمایا کہ ایک انسانی گورنمنٹ جو تم سے زبردست ہو اگر وہ ناراض ہو تو وہ تباہ کر سکتی ہے اور اللہ کیا تم سے زبردست نہیں ہے؟ اس لئے اللہ کی ناراضگی کو ایک عام حکومت کی ناراضگی کے برابر نہ کرو۔ بعض صورتوں میں عام حکومت تم سے ناراض بھی ہو تو ں صورتوں میں عام عوم تمہیں برباد نہیں کر سکتی مگر اللہ ناراض ہو تو آنا انا تم تباہ و برباد ہو جاؤ گے۔ وو پس تم سوچ لو کہ خدا تعالیٰ کی ناراضگی سے کیونکر تم بچ سکتے ہو اگر تم خدا کی آنکھوں کے کی آگے متقی ٹھہر جاؤ تو تمہیں کوئی بھی تباہ نہیں کر سکتا ۔“ یہی بات پہلے میں نے استثنا کے طور پر کہی تھی۔ یہ نہ سمجھنا کہ ہر ایک کو تباہ کر سکتی ہے۔ اکثر خدا کی نظر ہر تباہ کرسکتی میں متقی ٹھہرنے والے کمزور ہوا کرتے ہیں لیکن خدا اجازت نہیں دیتا کہ جابر سے جابر حکومت بھی ان کو تباہ کر سکے۔ معمولی گزند پہنچاتے ہیں ، نقصان ، دلی تکلیف لیکن تباہ نہیں کر سکتے لیکن شرط یہ ہے کہ اگر تم خدا کی آنکھوں کے آگے متقی ٹھہر جاؤ وہ خود تمہاری حفاظت کرے گا پھر حکومتوں کی ناراضگی کی کیا یا پروا ہے۔ اور دشمن جو تمہاری جان کے درپے ہے تم پر قابو نہیں پائے گا ورنہ تمہاری جان کا کوئی حافظ نہیں۔ (یعنی تقویٰ اگر نہ ہو تو پھر تمہاری جان کا کوئی حافظ نہیں ۔ تقویٰ کے لفظ میں حفاظت شامل ہے بچنا اور بچایا جانا ) اور تم دشمنوں سے ڈر کر یا اور آفات میں مبتلا ہو کر بیقراری سے زندگی بسر کرو گے۔ اور تمہاری عمر کے آخری دن بڑے غم اور غصہ کے ساتھ گزریں گے۔“ تقویٰ نہ ہو اور دوسرے سہارے موجود ہوں تو ان کا حقیقتاً تمہاری زندگی پر کوئی مستقل، فرحت بخش اثر نہیں پڑسکتا ۔ ایسے لوگ جو دنیا کے سہارے جیتے ہیں دنیا میں بدل جاتی ہیں، ایسے لوگ جو بڑے