خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 101
خطبات طاہر جلد 17 101 خطبہ جمعہ 13 فروری 1998ء کیسا پاک کلام ہے۔ چھوٹا سا فقرہ ان سب باتوں کے آخر پر رکھ دیا۔ جو دل کی گہرائی تک اتر جاتا ہے اور عزیز و کہہ کر مخاطب فرمایا کہ مجھے تم سے پیار ہے تم مجھے اچھے لگتے ہو میں نہیں چاہتا تمہیں کوئی گزند پہنچے۔ پس اے عزیز و ! تم تھوڑے دنوں کے لئے دنیا میں آئے ہو اور وہ بھی بہت گزر چکے ہیں۔ اکثر لوگوں کے دن بہت گزر چکے ہیں کیونکہ اس میں ایک یہ بھی حکمت ہے کہ ان کو پتا ہی نہیں کہ آج نہیں تو کل شاید موت آجائے تو جس کی موت بھی کل پرسوں مقدر ہے اس کے تو اکثر دن گزر ہی چکے ہیں اور چونکہ پتا نہیں کہ کب آتی ہے اس لئے ہو سکتا ہے کہ ان کے اکثر دن واقعہ گزر چکے ہوں اور ان کو احساس بھی نہ ہو۔ تھوڑے دنوں کے لئے دنیا میں آئے ہو اور وہ بھی بہت کچھ گزر چکی سو اپنے مولی کو ناراض مت کرو۔“ جس کے پاس جانا ہے اس کو ناراض کرو گے تو کیا پاؤ گے۔ چند دن کی زندگی، چند دن کے ابتلا ، چند دن کے مصائب اگر جھیل لو اور بالکل اس بات سے بے نیاز ہو جاؤ کہ یہ آزمائش تمہیں تکلیف دیتی ہے اس لئے کہ تھوڑی ہی تو ہے چند دنوں میں گزر جائے گی تو پھر اللہ ناراض نہیں ہو گا لیکن اگر تمہیں یہ خیال نہ ہو تو پھر خدا تعالیٰ ناراض ہو جائے گا اور ناراضگی کی حالت میں تم جان دو گے۔ ایک انسانی گورنمنٹ جو تم سے زبردست ہو اگر ( وہ ) تم سے ناراض ہو تو وہ تمہیں تباہ کر سکتی ہے۔“ یہ بالکل درست ہے۔ اللہ جن بندوں کو بچانا چاہے ان کو تباہ نہیں کر سکتی مگر روز مرہ کے وہ بندے جو کیڑوں مکوڑوں کی طرح زندگی بسر کر رہے ہیں جو پہلے ہی اپنی حکومتوں کو اپنا خالق اور معبود بنائے بیٹھے ہیں ان کو جب چاہیں فوری طور پر گورنمنٹیں ہلاک کر سکتی ہیں اور سب ملکوں کا یہی حال ہے ہر ملک میں حکومتیں یہ زیادتی کرتی ہیں جب وہ سمجھیں کہ فلاں شخص یا فلاں خاندان یا فلاں جتھا اب اس قابل نہیں رہا کہ ہم ان کو اپنے ساتھ چلائیں تو اس طرح چھوڑ دیتی ہیں جیسے پتھر کو چھوڑا جائے اور وہ بلندیوں سے زمین پر گرتا ہے۔ پھر اس کو پاؤں تلے روندتی ہیں اور بڑے خاندان ہیں، بڑے بڑے عظیم جتھے تھے جن کا کچھ بھی باقی نہیں چھوڑا گیا کیونکہ حکومتوں نے ان کو تباہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ روس میں بھی یہی ہوتا رہا، امریکہ میں بھی یہی ہوتا ہے ہر جگہ یہی ایک کہانی ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بیان فرماتے ہیں : ” ایک انسانی گورنمنٹ جو تم سے زبردست ہو ۔ اب یہ ز بر دست