خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 634
خطبات طاہر جلد 16 634 خطبہ جمعہ 22 اگست 1997ء ہدایت کے اور کوئی چیز نہیں۔ فرماتے ہیں: وو وو ہدایت بھی ایک موت ہے جو شخص یہ موت اپنے اوپر وارد کرتا ہے اس کو پھر نئی زندگی دی جاتی ہے اور یہی اصفیاء کا اعتقاد ہے اللہ تعالیٰ نے بھی اسی ابتدائی حالت کے واسطے فرمایا ۔ یا يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ اَنْفُسَكُمْ (المائدہ: 106) (اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو تم پر اپنے نفس کی ذمہ داری فرض کی جاتی ہے۔ سب سے پہلے اَنْفُسَكُمْ کی طرف توجہ دلائی ہے۔ بعد کا سفر ، دوسرے نفوس کی طرف توجہ، یہ بعد کی باتیں ہیں۔ عَلَيْكُمْ انْفُسَكُمْ ) یعنی پہلے اپنے آپ کو درست کرو اپنے امراض کو دور کرو دوسروں کی فکر مت کرو۔ دو اب یہ جو فقرہ ہے دوسروں کی فکر مت کرو اس پر ٹھہر نا نہیں ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اسی سے دوسروں کے فکر کی طرف منتقل ہوتے ہیں۔ زور دینا اس بات پر ہے کہ پہلے اپنے نفس کا فکر پھر دوسروں کے فکر ۔ اگر اپنے نفس کا فکر نہیں تو دوسرے کے فکر کا تمہیں کوئی حق نہیں ۔ ہاں رات کو اپنے آپ کو درست کرو اب یہ جو فقرہ ہے کیسا عظیم ہے اور دن کو دوسروں کو بھی ہدایت کرو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ساری تحریریں قرآن وحدیث کی عارفانہ تفسیریں ہیں۔ وَ مِنَ الَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَكَ عَلَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا (بنی اسرائیل: 80) یہ اس کی تفسیر ہے۔ فرمایا فکر کرو تو دن کو اپنی درستیاں لوگوں کو نہ دکھاؤ۔ اگر اپنی فکر ہے تو اس وقت کرو جب خدا کے سوا تمہیں کوئی نہیں دیکھ رہا۔ وَ مِنَ الَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِہ ۔ تہجد اس جہاد کو کہتے ہیں جو کمزوریاں دور کرنے کا جہاد ہے اور ہر تہجد آپ کو دوسروں کے لئے دن کے وقت نصیحت کرنے کے لئے پہلے سے بہتر تیار کرتی ہے۔ کتنی اعلیٰ تعلیم ہے۔ فکر کرو مگر اس رنگ میں کہ رات کو اپنے آپ کو درست کرو اور دن کو دوسروں کو بھی ہدایت دیا کرو۔ لوگ دن کو درستیاں دکھاتے رہتے ہیں اور رات کو آرام سے سو جاتے ہیں ۔ حالانکہ راتوں کا جاگنا اپنے نفس کی درستی کے لئے ضروری ہے کیونکہ خدا کے سوا ایسے انسان کو کوئی نہیں دیکھ رہا ہوتا اور اس وقت اپنے نفس کا محاسبہ کرنا ضروری ہے۔