خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 633 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 633

خطبات طاہر جلد 16 633 خطبہ جمعہ 22 اگست 1997ء احمدی دوست بٹالے کے سٹیشن پر اترے قادیان جانے والے تھے تو ایک ملاں دوڑ کر آیا اور ان کو کہا کہ کہاں جارہے ہو بڑا ظلم کر رہے ہو جس جگہ جاؤ گے وہاں تمہارا ایمان لوٹا جائے گا تمہارا کچھ بھی باقی نہیں رہے گا۔ انہوں نے چھا ڈال لیا اس کو، پنجابی میں کہتے ہیں نا جاچھا اور اپنے ساتھی کو آواز دی کہ آؤ آؤ میں تمہیں شیطان دکھاؤں ۔ یہ شیطان ہوتا ہے۔ اس کو صرف یہ تکلیف ہے کہ یہ لوگ نیکی کے لئے کیوں جارہے ہیں۔ وہ محبہ خانوں میں جائیں ، گندگیوں کی طرف دوڑیں، جہاں مرضی چلیں اس مولوی کو توفیق نہیں ملے گی کہ ان کو روکے۔ کثرت سے عیسائی ہو جائیں مجال ہے جو مولوی کو کوئی فکر لاحق ہو لیکن مسیح موعود علیہ السلام کی طرف جا رہے ہیں تو کہتے ہیں دیکھو میں تمہیں پکڑ کے دکھاتا ہوں یہ شیطان تھا اور ساتھ ہی اس نے ایک بہت دلچسپ بات کہی ۔ اس نے کہا مولوی ! لوگوں کی جوتیاں گھس گئیں قادیان جاتے ہوئے ، مرزا صاحب کے در پہ جاتے ہوئے ، تمہاری جوتیاں گھس گئیں ان کو روکتے ہوئے لیکن تم نہیں روک سکے ان کو، نہ آئندہ کبھی روک سکو گے۔ یہ ہے خدا تعالیٰ کی عظمت کا نشان ، اسی طرح دشمن کوشش کرتا ہے کہ خدا کے بندوں کو خدا کی راہوں سے روکے اور صرف خدا کی راہوں سے روکتا ہے باقی راہوں کی اس کو کچھ بھی پرواہ نہیں۔ یہ ایک کسوٹی ایسی ہے جس پر ہمیشہ صحیح جواب آئے گا۔ سوائے احمدیت کے دنیا کی کسی جماعت کی سچائی اس کسوٹی پہ سچی ثابت نہیں ہو سکتی ۔ احمدی ہو تو دوسروں کو آگ لگے۔ شیطان ہو جاؤ، کافر ہو جاؤ، یہودی بن جاؤ، عیسائی ہو جاؤ جو چاہو کر و مجال ہے جو کسی کو کوئی فرق پڑے۔ تو اس جدو جہد کو جو لوگ آپ کے خلاف استعمال کر رہے ہیں اپنے حق میں استعمال کرنا سیکھیں۔ دشمن کو یہ بتائیں اور آنے والوں کو بھی کہ دیکھو یہ سچائی ہوتی ہے۔ پوچھا کریں کہ کیوں جی آیا تھا کہ نہیں کوئی تمہارے پاس۔ وہ بتاتے ہیں اور کئی ایسے ہیں جو بعض دفعہ بغیر بتائے کھسک کے دور ہٹ جاتے ہیں یہ ان کی بدنصیبی ہے مگر پھر وہ جہاں مرضی چلے جائیں پھر ان کی کوئی پرواہ نہیں رہتی ۔ ایک دفعہ جماعت سے چھٹ جائیں پھر دوبارہ ان کے پاس کوئی بہکانے والا نہیں آئے گا، کوئی واپس دین کی طرف بلانے والا بھی نہیں آئے گا ان کا کام ختم ہو گیا جماعت سے الگ کر دیا۔ پس اس دلیل کو جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہاں اٹھائی ہے اسے بڑی مضبوطی کے ساتھ جماعت کے حق میں پیش کریں اور بتائیں کہ ان کی تکلیف کا موجب سوائے