خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 536 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 536

خطبات طاہر جلد 16 536 خطبہ جمعہ 18 جولائی 1997ء جن کو میں جانتا تھا لیکن آئندہ کے لئے ہمیشہ کے لئے میں نے ان کو جماعت کی خدمت سے محروم کر دیا۔ ایسا ہی واقعہ ایک جرمنی میں بھی ہوا اور ایک مہمان نواز صاحب جو غیر ملکیوں کے مہمان نواز تھے اس کام پر مقرر تھے وہاں ایک احمدی بعض غیر احمدی لڑکوں کو بلا کر لایا ہوا تھا اور ان کے اصرار کے با وجود کہ نہیں کوئی ضرورت نہیں وہ ان کو زبردستی اس مہمان خانے میں لے گیا جو غیر ملکیوں کے لئے تھا۔ اب ایسے موقع پر ایک طرف انتظام ہے ایک طرف اخلاق ہیں۔ ایک طرف عمومی ذمہ داری ہے جو خدا کے مہمانوں کی ادا کرنے والی ہے اس وقت حکمت سے کام لینا چاہئے لیکن اخلاق فاضلہ کو بہر حال ان انتظامی ذمہ داریوں پر قربان نہیں کیا جا سکتا۔ ان صاحب نے جو منتظم تھے انہوں نے اپنا فرض یہ سمجھا کہ جا کر ان کی کھانا کھاتے ہوؤں کی پلیٹیں چھین کر پھینک دیں اور واپس جا کر انہوں نے مجھے یہ خط لکھا۔ انہوں نے کہا ہم تو کچھ اور سمجھ کے آئے تھے آپ کی جماعت کو، یہ تو کچھ اور نکلی ہے۔ میں تو یقین نہیں کر سکا۔ میں نے کہا یہ ہو ہی نہیں سکتا ، ضرور انہوں نے کوئی زیادتی کی ہے اور ایسا واقعہ ممکن نہیں لیکن تحقیق بھی کروائی اور پتا لگا واقعہ بعینہ یہی ہوا اور ان صاحب نے جن کو خدا کے فضل کے ساتھ جھوٹ کی عادت بہر حال نہیں ہے انہوں نے تسلیم کیا کہ ہاں مجھ سے یہ حرکت ہوئی ہے۔ تو اپنی طرف سے منتظم بنے ہوئے تھے لیکن ایسی بیہودہ بداخلاقی کی حرکت ہوئی ہے جو جماعت کو داغ لگانے والی ہے اور ایسے بعض دوستوں کو ہمیشہ کے لئے پرے دھکیلنے والی جن کے متعلق امکان تھا کہ وہ جماعت احمدیہ میں داخل ہو جاتے ۔ ایسے موقعوں پر کیا کرنا چاہئے سوال تو یہ پیدا ہوتا ہے؟ یہاں پر عزت کے ساتھ یا تو افسر اعلیٰ سے اجازت لے لی جائے کہ ان کو یہاں کھانا کھانے کی اجازت دی جائے۔ یا عزت کے ساتھ ان سے درخواست کی جائے کہ بھائی آئیں میں آپ کو اس سے بہتر بٹھا کر کھانا کھلا دیتا ہوں لیکن دیکھیں یہ غیر ملکی لوگ ہیں ہم آپ کے لئے اور اچھا انتظام کر دیتے ہیں اگر ایسا کرتے تو ہرگز ان کے دل میں کوئی اس کے خلاف رد عمل نہ ہوتا لیکن کھاتے ہوئے آدمی کی پلیٹیں چھین کر پھینک دی جائیں یہ بہت ہی ذلیل سلوک ہے۔ میں امید رکھتا ہوں اور میں تصور بھی نہیں کر سکتا کہ ایسا کوئی ذلیل سلوک اس موقع پر ہو، اس جلسہ سالانہ پر ہو لیکن اگر انتظامی طور پر کچھ مشکلات پیش آتی ہیں تو اخلاق فاضلہ کو بڑھ جانا چاہئے نہ کہ کم ہونا چاہئے۔ غالب کہتا ہے: بہرہ ہوں میں ، تو چاہئے دو نا ہو التفات سنتا نہیں ہوں باست ، مکر رکہے بغیر (دیوان غالب: 111)