خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 535
خطبات طاہر جلد 16 535 خطبہ جمعہ 18 جولائی 1997ء مہمان کو جتنا بھی کھانا ہے وہ اسی کے لئے کافی ہوگا اس کو کھانا کھانے دیں گے۔ اس صورت میں وہ دستر خوان کے گرد بیٹھے کہ وہ دونوں آوازیں نکال رہے تھے اور ایک کہنے والا یہ کہہ سکتا ہے کہ یہ جھوٹ ہے۔ میں آپ کو سمجھانا چاہتا ہوں تبذیر میں بھی ایک جھوٹ ہے۔ مگر یہ جھوٹ جھوٹ نہیں ہے کیونکہ اگر یہ جھوٹ ہوتا تو آنحضرت ﷺ اس کی تعریف نہ فرماتے۔ بغیر کچھ کہے کسی پر ایسا اظہار کرنا کہ ایک نیکی میں مددگار ہو، مہمان نوازی کی تائید کرنے والا ہو لیکن منہ سے کوئی جھوٹ نہ بولا گیا ہو۔ یہ تعصب کے لحاظ سے صلى الله الله شاید جھوٹ کوئی سمجھے مگر یہ جھوٹ نہیں ۔ آنحضرت ﷺ نے اس کو نیکی ہی شمار فرمایا ہے۔ چنانچہ دوسرے دن جب وہ نماز کے لئے حاضر ہوا آنحضرت ﷺ نے اس سے پوچھا تم نے کیا کیا رات کو۔ وہ حیران تھا کہ اس بات کا کسی کو کچھ پتا نہیں تم نے کیا کیا کہ آسمان پر خدا بھی خوش ہوا اور خوشی کے اظہار میں جو آواز نکلتی ہے ہنسی کی آسمان پر خدا ہنسنے لگا ۔ ایک روایت میں ہے کہ ایسا تم نے واقعہ کیا ہے۔ اس پر اس نے عرض کیا الله صلى الله التعليسة یا رسول الله یہ واقعہ ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس واقعہ کو اتنے پیار سے دیکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو اس کی اطلاع دی اور ہمیشہ کے لئے اسلامی تاریخ میں یہ واقعہ محفوظ ہو گیا۔ اب آپ کو سمجھا رہا ہوں کہ یہ تبذیر نہیں ہے۔ یہ جھوٹ نہیں ہے۔ نیکی میں حد سے زیادہ توفیق پانے کی ایک ایسی مثال ہے جو دنیا میں کم دکھائی دیتی ہے۔ تو مہمان کے لئے اس حد تک آپ اپنی وسعتوں کو بڑھا ئیں کہ آپ کی مہمان نوازی کی وسعت تو بڑھے لیکن اپنی ذات پر بے شک تنگی آئے لیکن ایسی وسعت نہ کریں جیسے دکھاوے والے دنیا کو دکھانے کی خاطر خرچ کیا کرتے ہیں اور اپنی توفیق سے بڑھ کر خرچ کر دیتے ہیں۔ پس میں امید کرتا ہوں کہ انشاء اللہ تعالیٰ یہاں کی مہمان نوازی اسی رنگ کی ہو گی۔ دوسری ایک بات جو جلسے کے ساتھ خصوصیت کے ساتھ تعلق رکھتی ہے وہ یہ ہے کہ جلسے پر بہت سے لوگ جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے نازک مزاج بن کر آتے ہیں اور اس میں کچھ ان کا حق بھی شامل ہوتا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اتنی دور سے آئے ہیں، محض خدا کی خاطر آئے ہیں۔ اس لئے ہمارا پورا خیال رکھنا چاہئے اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر بعض دفعہ ناراض ہو جاتے ہیں۔ اس موقع پر میزبان کا یہ کام نہیں ہے کہ ناراض ہو۔ یہاں ایک ایسا واقعہ گزرا تھا جس کی وجہ سے میں بعض جماعتوں کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہا تھا۔ بڑی بد تمیزی سے مہمانوں کو کہا گیا کہ قبول کرتے ہو تو کر وہ نہیں تو جاؤ جو مرضی ہے کرو۔ بڑی ذلیل اور کمینی حرکت تھی۔ جو عام طور پر ایسے شخصوں سے رونما نہیں ہوا کرتی