خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 482
خطبات طاہر جلد 16 482 خطبہ جمعہ 27 جون 1997ء سکتا تو کاغذات میں وہ اتنی قیمت مقرر کر لیتے ہیں اور بینک کے مینیجر سے اتنی دوستیاں بنا لیتے ہیں کہ وہ یہ کہتے ہیں جی ان کی ایک لاکھ کی جائیداد بینک کے نام ہوگئی اور جو کچھ بھی ان کا حق تھا اس سے نوے فیصد زیادہ وصول کر لیا اور جب یہ لوگ پھر گرتے ہیں جب ان سے ناکامیاں ہوتی ہیں تو تجارت میں تو اونچ نیچ دونوں چلتے ہیں ضرور ۔ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ ایک تاجر سو فیصدی اپنے نفع پر یقین رکھتا ہو۔ پس جب وہ گرتے ہیں تو بیوی بچے سارے برباد، کچھ بھی باقی نہیں رہتا۔ قرضے مانگتے ہیں لوگوں سے کہ ہم بہت مضبوط ہیں ، ہم آپکے قرضے واپس کر دیں گے اور ان قرضوں میں آپ کا حصہ بھی ڈالیں گے یعنی اس فائدے میں آپ کا حصہ ڈالیں گے جو ان قرضوں سے ہمیں نصیب ہوگا۔ سب جھوٹ بولے رہے ہوتے ہیں یا کم سے کم اکثر جھوٹ بول رہے ہوتے ہیں اور اس کے نتیجے میں گھر گھر میں فساد اور جماعت میں اختلافات ۔ یا درکھو شیطان آپ کا دشمن ہے اور اللہ تعالیٰ نے بھی قرآن کریم میں کھول کر بیان فرمایا ہے کہ یہ کیوں نہیں سمجھتے کہ شیطان تمہارا دشمن ہے۔ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ شیطان بات کرے اور تمہارے حق میں بات کرے اس کے باوجود تم اس کی بات سنتے ہو۔ دشمن کی باتیں مانتے کیوں ہو یا تو دل میں یقین ہی نہیں ہے کہ اللہ سچ بولتا ہے۔ اللہ کہتا ہے شیطان تمہارا دشمن ہے، آپ دل میں کہتے ہیں نہیں ہر دفعہ نہیں بعض دفعہ بڑا دوست بھی ہوتا ہے، فلاں جگہ ہمیں شیطان سے فائدہ پہنچا ہے لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ شیطان کی دوستی بالآخر ضرور نقصان پہنچاتی ہے اور یہ تو ایسا مضمون ہے جس پر مسلمانوں کے علاوہ بھی دنیا میں لکھنے والوں نے لکھا ہے اور وہ شیطان کو اس طرح پیش کرتے ہیں کہ شروع میں وہ سبز باغ دکھاتا اور انسان سے بڑے بڑے وعدے کرتا ہے مگر ایک وعدہ لے لیتا ہے اس سے کہ اپنی روح میرے پاس فروخت کر دو۔ پھر جب اس کو دنیا نصیب ہوتی ہے تو اس روح کو فروخت کرنے کے نتیجے میں پھر جو اس کو دنیا میں جہنم ملتی ہے اس کے نقشہ کھینچنے والوں نے کھینچے ہیں بڑے بڑے دنیا میں اچھے لکھنے والے ہیں جنہوں نے اس مضمون کو اپنے اپنے رنگ میں بیان کیا ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ایک آیت میں اس بات کو ہمیشہ کے لئے خوب کھول دیا کہ یا درکھو شیطان تمہارا دشمن ہے اور اللہ ولی ہے۔ اللہ ولی الَّذِينَ آمَنُوا (البقرة : 258) وہ جو ایمان لاتے ہیں ان کا دوست ہو جاتا ہے۔ یہ چھوٹی سی حقیقت