خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 481
خطبات طاہر جلد 16 481 خطبہ جمعہ 27 جون 1997 ء اپنا دنیا کا فائدہ اس طرح چاہتا ہے کہ اللہ کی نظر سے گویا بچ گیا ہے تو خدا اسے پکڑے گا نہیں ۔ اپنے دلوں سے ،اپنے ضمیر سے ، اپنی عادات سے جھوٹ کو اس طرح صاف کر دیں جس میں کچھ بھی اس کا آپ کی ذات میں کچھ بھی باقی نہ رہے۔ یہ جدو جہد بڑی لمبی ہے روزمرہ آپ کے گھروں میں جھوٹ بولے جا رہے ہیں۔ آپ بول رہے ہیں ، اپنی بیویوں سے بول رہے ہیں، بچے اپنے ماں باپ سے بول رہے ہیں اور ان چیزوں کو پکڑا نہیں جا رہا۔ پس میں آپ سے متوجہ ہو کر یہ عرض کر رہا ہوں کہ آپ نے اگر کینیڈا کی جماعت میں نئی زندگی پیدا کرنی ہے تو ان شیطانی زہروں سے بچیں جو زندگی کے دشمن ہیں ۔ ان کے ساتھ زندگی پیدا نہیں ہو سکتی ۔ اپنے آپ کو پاک صاف کر لیں ۔ اللہ کے سوا کسی کا خوف نہ رکھیں ۔ اللہ کے سواکسی سے اپنی کوئی حرص نہ باندھیں۔ جو کچھ مانگنا ہے خدا سے مانگیں اور اس مانگنے کے لئے وہ صبر دکھائیں جس کے نتیجے میں آخر دعائیں قبول ہوا کرتی ہیں۔ دنیا کی محنتیں لازم ہیں وہ آپ کو کرنی ہوں گی مگر جلدی دولت حاصل کرنے کے لئے اگر آپ خدا کو ناراض کرتے ہیں ،سوداٹھا لیتے ہیں سروں پر بڑے بڑے قرضوں کا بوجھ ڈال لیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ آپ نے اس طرح ایک بڑا کارخانہ قائم کر لیا، بڑی بزنس کر لی تو یہ سب جھوٹ ہی کے قصے ہیں ۔ اللہ نے ان باتوں میں سود کی کمائی سے اپنے آپ کو طاقت دینے سے منع فرمایا ہے اور سود کی کمائی میں بھی پھر فرق ہیں۔ بعض جگہ سود نام ہے لیکن حقیقت میں وہ سود نہیں ہوتا۔ بعض دفعہ فنانشل نظام کے تابع آپ کو کچھ کرنا پڑتا ہے لیکن میں نے اس میں ایک ایسی پہچان آپ کے سامنے کھولی ہے پہلے بھی ، اب میں پھر کھولتا ہوں جس کے نتیجہ میں آپ بالکل واضح سمجھ لیں گے کہ آپ نے کیا حرکت کی ۔ اب آج کل جو سودی نظام ہے وہ اس طرح دنیا پر چھایا ہوا ہے کہ کوئی تاجر اس سے بیچ کر نکل ہی نہیں سکتا لیکن جب وہ ضمانت لکھواتا ہے کوئی یعنی اس بینک کے پاس جس سے اس نے قرضہ لیا ہے اگر وہ اس میں سچ بولتا ہے اور جتنا ہے اتنا ہی دکھاتا ہے تو پھر یہ سود تو ہے مگر اس قسم کا مکروہ سود نہیں جو انسانی نفس کو ہلاک کر دیتا ہے۔ بعض لوگ کا غذات کی تیاری کرتے ہیں لوگوں کے پیچھے بھاگے پھرتے ہیں، ان سے سٹر یفکیٹ لیتے ہیں اور ان کا سب کچھ گھر کا بیچ بھی دیا جائے تو اگر ان کو دس ہزار ڈالر سے زیادہ نہیں مل