خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 339 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 339

خطبات طاہر جلد 16 339 خطبہ جمعہ 16 مئی 1997 ء کے اعتبار سے الگ الگ مجلسیں بنانی پڑیں گی ۔ جیسا کہ ہم نے پہلے بھی یہ فیصلہ کیا ہے کہ بوسنین بولنے والوں کی الگ مجلس لگا کرے اور البانین بولنے والوں کی الگ مجلس لگا کرے۔ تو کام اللہ تعالیٰ کے فضل سے پھیلتے جا رہے ہیں اور ان کاموں کے ساتھ ساتھ مرکزی ذمہ داریاں بھی بڑھتی جا رہی ہیں اور یہ خوف پیدا ہوتا ہے کہ کیا میں ان سب ذمہ داریوں کو ادا کر سکتا ہوں یا نہیں مگر اس کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے ہمیں جو احمد یہ انٹر نیشنل مسلم ٹیلی ویژن عطا فرمایا ہے اس کے ذریعہ بہت سے بوجھ ہلکے ہو جاتے ہیں۔ چنانچہ کل ہی میں نے یہاں کے ایسے احباب کو جو مدعو تھے مگر سوال نہ کر سکے ان سے درخواست کی اور اکثر کے چہروں پر اس کے نتیجے میں چمک دیکھی کہ آپ اپنے تمام سوالات لکھ کرMTA کولندن بھجوا دیں اور ہم انشاء اللہ سب کے جوابات آپ کو دیں گے اور آپ ہی کی زبانوں میں ان کے جوابات کو نشر کیا جائے گا لیکن علاوہ ازیں مقامی طور پر ہمیں بہت سے جواب دینے والوں کی ضرورت ہے اور یہ ممکن نہیں رہا ہمیشہ جرمنی میں جہاں میں جاؤں وہیں الگ الگ مجلسیں لگیں۔ آپ میں سے کثرت سے ایسے آدمی اب تیار ہونے چاہئیں جو خود مجالس سوال و جواب لگائیں اور پورے اطمینان کے ساتھ ، دعا کرتے ہوئے مختلف سوالات کے جواب دینا سیکھیں ۔ ” سیکھیں“ اس لئے میں نے کہا کہ جواب دینے کے دوران ہی ان کی طالب علمی کا زمانہ شروع ہو جاتا ہے اور بظاہر وہ استاد بن کر جواب دے رہے ہوتے ہیں مگر ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ ان کو سکھاتا چلا جاتا ہے اور یہ ایک میرا وسیع تجربہ ہے جس میں میں آپ کو بھی شامل کرنا چاہتا ہوں ۔ یہ خیال دل سے نکال دیں کہ بہت بڑے علم کی تیاری کے بعد آپ کو غیروں کے سوالات کا اطمینان بخش جواب دینے کی توفیق مل سکتی ہے۔ بسا اوقات انسان ایک سوال سے بالکل ناواقف اور اس بات سے بالکل بے بہرہ ہوتا ہے کہ سوال کرنے والے کو کیسے مطمئن کیا جائے اور اچانک اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے دل میں ڈالتا ہے اور جو خدا دل میں ڈالتا ہے وہی بات درست نکلتی ہے۔ ست نکلتی ہے۔ پس یہ سلوک کسی ایک شخص سے نہیں ہے ساری جماعت سے ہے اور جماعت احمد یہ کے وقار کی خاطر اللہ تعالیٰ نے یہ اپنی رحمت کا سلسلہ جاری فرمایا ہے۔ چنانچہ بہت سے احمدی جو کم علم رکھنے کے باوجود وقت کی مجبوری کے پیش نظر مختلف دلچسپی رکھنے والوں کے سوالات کا جواب دینا چاہتے ہیں بسا اوقات مجھے