خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 338
خطبات طاہر جلد 16 338 خطبہ جمعہ 16 مئی 1997 ء طرف کھنچے چلے آرہے ہیں اور کام کرنے والوں کی تعد ادرات دن بڑھ رہی ہے لیکن ابھی تربیت کی بہت ضرورت ہے اور ابھی انفرادی طور پر ہر شخص کے تقویٰ کے معیار بڑھانے کی بھی ضرورت ہے کیونکہ کام کرنے والے بہر حال خلوص سے آتے ہیں، دنیا کی لذتیں چھوڑ کر ، دنیا کی دلچسپیوں سے منہ موڑ کر جب وہ دین کے لئے اپنے آپ کو پیش کر دیتے ہیں تو یہی ایک بہت بڑی بات ہے جوان کے تقویٰ یا نہاں تقویٰ کو ظاہر کرتی ہے۔ تقویٰ بھی نہاں ہوتا ہے اور ظاہر ہوا کرتا ہے۔ نہاں تقویٰ وہ بیج ہے تقویٰ کا جس کے نتیجے میں انسان دنیا سے منہ موڑتے ہوئے اللہ کے کاموں کی طرف توجہ شروع کرتا ہے لیکن اس کے بڑھنے میں ، اس کی نشو و و نما پانے میں ابھی بہت سی منازل باقی ہیں۔ پس اس پہلو سے میں نے یہ دعا کی اور آپ کو بھی اس دعا میں شامل کرنا چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ جماعت جرمنی کے تمام کارندوں کو پہلے سے بڑھ کر تقویٰ عطا فرمائے اور ان کا تقویٰ ان کے اعمال میں ظاہر و باہر ہو اور بہت سی ایسی خرابیاں اور کمزوریاں جو انفرادی طور پر جماعتوں میں پائی جاتی ہیں یا اجتماعی طور پر جماعتوں میں پائی جاتی ہیں اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ان کو دور فرمادے۔ پس كَفِّرْ عَنَّا سَيَاتِنَا (آل عمران : 194) کی دعا ہمیشہ جاری رہنی چاہئے کہ اے ہمارے رب ہماری برائیوں کو ہم سے دور فرما تا چلا جا اور فرماتا رہ۔ کل جو پروگرام ہوئے تھے ان سے یہ بھی اندازہ ہوا کہ بڑھتے ہوئے کاموں کے نتیجے میں غیروں کا رجحان بڑی تیزی سے جماعت کی طرف ہو رہا ہے اور کام بعض دفعہ اتنے پھیلے ہوئے دکھائی دیتے ہیں کہ معلوم ہوتا ہے وہ سنبھالے نہیں جا رہے۔ مثلاً کل جماعت کی توقع تھی کہ سو ڈیڑھ سو افراد آئیں گے۔ یعنی زیادہ سے زیادہ ان کا یہ خیال تھا۔ کچھ فرانسیسی بولنے والے، کچھ ترکی بولنے والے، کچھ عربی بولنے والے لیکن خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ جو غیر از جماعت اور غیر مسلم کل شامل ہوئے ہیں ان کی تعداد تین سو سے بھی اوپر تھی اور ان میں مختلف زبانوں کے بولنے والے اصرار کر رہے تھے کہ ہمیں بھی موقع دیا جائے ، ہمارے سوالات کے بھی جوابات ملنے چاہئیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ تقریباً سوا دو گھنٹے کی مجلس کے باوجود سب ہی پیا سے معلوم ہورہے تھے اور چاہتے تھے کہ انہیں کچھ اور موقع ملنا چاہئے۔ پس میں نے سوچا کہ دراصل اب یہاں کے لئے صرف ایک ایسی مجلس کافی نہیں جس میں چار پانچ زبانوں والے شامل ہوں بلکہ یہاں بھی اور جرمنی کے دوسرے حصوں میں بھی اب زبانوں