خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 269 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 269

خطبات طاہر جلد 16 269 خطبہ جمعہ 11 راپریل 1997ء اتنا ہی اس کی بیماریاں زیادہ جڑ پکڑ جائیں گی، اتنا ہی وہ زیادہ بد تمیز اور بد خلق ہوتا چلا جائے گا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ہر مضمون کو اس کے محل پر رکھا ہے جب خدا تو بہ قبول کرلے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہونا چاہئے کہ ایسے شخص کی بیماریاں ملنی شروع ہو جائیں، اس کی روز مرہ کی کمزوریوں میں کمی آنی شروع ہو جائے ۔ تو اس لئے فرما رہا ہے کہ وَيَعْفُوا عَنِ السَّيَّاتِ وہ تمہاری بیماریوں اور ان کمزوریوں کو جو گناہ نہیں ہیں مگر گناہ کے لئے بنیادیں بن جاتی ہیں، گناہ ان کمزوریوں سے تقویت پا کر پھر آگے بڑھتے ہیں یا وہ خود عارضی معمولی کمزوریاں بالآخر عدم توجہ کی وجہ سے گناہ بن جایا کرتی ہیں ان سے عنوان معنوں میں فرمائے گا کہ ان کو مٹا ڈالے گا ان کا کوئی وجود بھی باقی نہیں رہے گا۔ اور وَيَعْلَمُ مَا تَفْعَلُونَ اور یہ فیصلہ خدا کا اس لئے قابل عمل ہے کہ وہ جانتا ہے کہ انسان کیا کر رہا ہے۔ انسان جب عفو کا سلوک کرتا ہے اگر زیادہ ذہین ہوگا تو بہتر عفو کا سلوک ہوگا، بہتر نتیجہ نکلے گا۔ اگر نسبتا کم عقل ہو گا تو چونکہ جانتا نہیں ہے کہ وہ شخص کیا کرتا ہے، اس کے اندر کا کیا حال ہے اس لئے اس کا عفو نقصان بھی پہنچا سکتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے اس بات کی ضمانت دی ہے کہ بالکل فکر نہ کرو، وہ تمہارے اعمال سے واقف ہے اس لئے عفو کا سلوک جب بھی فرمائے گا تمہارے فائدے میں فرمائے گا اور تمہارے اعمال کی بہتری کا موجب بنے گا اور اس کے بعد پھر وَ يَسْتَجِيبُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ کا مضمون ہے۔ فرمایا وہ لوگ جو اس مرتبے کو حاصل کر لیں ، خدا کا سچا بندہ بنتے ہوئے تو بہ کر لیں اور اس تو بہ کو اللہ قبول فرمالے اور قبولیت کے بعد ان کی کمزوریوں کو دور کرنے کا نشان ان میں ظاہر فرمادے، انسان دیکھیں اور پہچانیں کہ پیشخص روز بروز بہتر ہوتا چلا جا رہا ہے اس میں کسی آسمان سے اترنے والے سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں ہے۔ ہر وہ شخص جو اپنے اندر پاک تبدیلیاں کرنے کا فیصلہ کرتا ہے، سچی توبہ کرتا ہے اس کے ساتھ یہی معاملہ آپ ہمیشہ دیکھتے ہیں کہ اچانک وہ کمزوریوں سے نکل کر ولی اللہ نہیں بن جاتا مگر اس کا قدم ولایت کی طرف اٹھنا شروع ہو جاتا ہے۔ دن بدن اس کی عادتوں کی خرابیاں دور ہونے لگتی ہیں۔ اگر پہلے روز مرہ جھوٹ بولتا تھا تو اب رک رک کے بولے گا۔ شروع میں احتیاطیں کرے گا پھر نکل جائے گا جھوٹ ۔ تو تو بہ کرے گا، استغفار کرے گا اور یہ تو بہ کا عمل جب مقبول ہو جائے گا تو جھوٹ سے بچ جائے گا اور وہ ادنی کمزوریاں جو جھوٹ کی طرف مائل کرتی ہیں ان کے دور ہونے کا عمل شروع ہو جائے گا اور یہ وہ