خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 268 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 268

خطبات طاہر جلد 16 268 خطبہ جمعہ 11 اپریل 1997ء جب تو بہ قبول کر لی تو پھر وَ يَعْفُوا عَنِ السَّيِّاتِ کا بعد میں جو وعدہ ہے اس کے پھر کیا معنی ہوئے۔ اس لئے وَيَعْفُوا عَنِ السَّيِّاتِ سے مراد یہ نہیں ہے کہ ان کے گناہ بخش دیتا ہے کیونکہ بخشش کے لئے عربی میں غفران کا لفظ ہے۔ عفا کا معنی نظر انداز کر دینا، گویا وہ نہیں ہیں اور جب خدا تعالی کسی چیز کو نظر انداز کر دیتا ہے تو اس میں اس کے مٹانے کا مضمون ہے۔ اللہ تعالیٰ دوسری جگہ فرماتا ہے وہ پھر تمہاری سیات کو دور فرمائے گا لیکن تو بہ تم کرو مغفرت حاصل کر لو گنا ہوں سے پھر گناہوں میں لوٹو نہیں۔ جو چھوٹی موٹی بیماریاں، چھوٹے موٹے قصور باقی رہ جائیں گے ان میں پھر تمہیں اپنے آپ کو آپ کو ہلکان کرنے کی ضرورت نہیں۔ اللہ تعالیٰ وعدہ فرماتا ہے کہ وَيَعْفُوا عَنِ السَّيِّاتِ يَعْفُوا عَنِ السَّيِّاتِ کہ وہ چھوٹی چھوٹی بیماریوں سے یا روزمرہ کی لغزشوں سے تمہیں ان معنوں میں بچالے گا کہ جب خدا عفو فر مائے گا تو اس کا قانون بھی عفو فر مائے گا۔ اب بندے کے عفو میں اور خدا کے عفو میں بہت بڑا فرق ہے ایک انسان جب کسی بچے کی کمزوریوں کو نظر انداز کرتا ہے تو وہ نظر اندازی لازم نہیں کہ اس کی اصلاح پر منتج ہو۔ کوئی نظر اندازی اس کی بیماریوں کو مستقل کرنے کا موجب بھی بن سکتی ہے اور اس کے بداثرات سے اس کو بچا نہیں سکتی ۔ اس لئے کمزوریوں کو نظر انداز کرنا بھی حکمت کو چاہتا ہے اور حکمت بالغہ کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنے بچوں کی کمزوریوں پر اس حد تک صرف نظر کا سلوک فرمائے جس حد تک وہ صرف نظر ان کو مٹانے کا موجب بنے کیونکہ عفو میں مٹانے کا مضمون ہے۔ عفت الديار محلها و مقامها اس میں مٹ جانا اور بے نام و نشان رہ جانا یہ مضمون ہے۔ کا عفو کا سلوک جب اللہ تعالیٰ فرماتا ہے عفو کا سلوک فرمائے گا السَّيِّاتِ سے تو اس طرح کا نہیں جو جاہل مائیں اپنے بچوں کی غلطیوں سے کرتی ہیں تو وہ ان غلطیوں میں اور بھی بڑھ جاتے ہیں ۔ جب خدا عفو کرتا ہے تو غلطیاں مٹ جایا کرتی ہیں اور انسانوں میں بھی یہ بات مشاہدے میں آئی ہے بار ہا تربیت میں ہم نے دیکھا ہے کہ اگر بچہ شریف النفس ہو اس میں توجہ ہو اصلاح کی جو توبہ سے پیدا ہوتی ہے تو تو بہ کے بعد عفو کا مضمون ہے اصل میں ۔ پھر آپ اگر اس سے عفو کا سلوک کریں تو اس کی توبہ کی حوصلہ افزائی ہوگی ، اسے مزید طاقت ملے گی کہ وہ اپنی اصلاح کے راستے میں اور آگے قدم بڑھائے اور وہ جو تائب نہیں ہے اس کے ساتھ جتنا عفو کا سلوک کریں گے اتنا ہی اس پر ظلم کر رہے ہوں گے اور