خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 730 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 730

خطبات طاہر جلد 15 730 خطبہ جمعہ 20 ستمبر 1996ء جانوں کے مفاد کے خلاف اعمال کئے ہیں یہ مراد ہے جانوں پر ظلم کیا ہے۔ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَّحْمَةِ اللهِ اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔ اِنَّ اللهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا الله تعالی تمام گناہوں کو ، تمام تر گناہوں کو بخشتا ہے، بخش سکتا ہے اگر وہ چاہے۔ اِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ اگر وہ چاہے، کہ الفاظ یہاں نہیں ہیں۔ مگر دوسری جگہ جہاں بھی یہ مضمون آیا ہے اگر وہ چاہے کہ الفاظ ہیں تو اس لئے وہ اس مضمون میں شامل ہیں اس لئے میں نے وہ الفاظ پڑھے ہیں مگر لفظی ترجمے میں نہیں ہیں۔ لفظی ترجمہ صرف اتنا ہوگا کہ یقیناً اللہ تعالیٰ تمام تر گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ اِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ یقیناً وہی ہے جو بہت زیادہ بخشنے والا اور بار بار رحم فرمانے والا ہے۔ وَأَنِيبُوا إِلَى رَبِّكُمْ وَأَسْلِمُوا لَهُ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَكُمُ الْعَذَابُ اور اپنے رب کی طرف جھکو وَأَسْلِمُوا اور اس کی فرمانبرداری اختیار کرو۔ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَكُمُ الْعَذَابُ پیشتر اس کے کہ تمہارے پاس عذاب آجائے ثُمَّ لَا تُنْصَرُونَ پھر تم مد د نہیں دئے جاؤ گے ۔ تو یہ جو آیت ہے خدا تعالیٰ کی غیر معمولی بخشش اور بے انتہا بخشش کا مضمون پیش کر رہی ہے اس کے ساتھ ایک تنبیہ بھی فرما رہی ہے۔ اگر انسان اس خیال سے کہ خدا ہر گناہ بخش سکتا ہے بخش دے گا، گناہوں میں دلیر ہوتا رہے اور آگے بڑھتا رہے تو پھر عین ممکن ہے کہ اس کی موت ایسے وقت میں آئے جبکہ خدا کی ناراضگی کا اظہار اس دنیا میں اس سے شروع ہو چکا ہو اور جب پکڑ کا وقت آ جائے پھر کوئی بخشش نہیں ہے۔ تبھی فرعون نے جب آخری ڈوبتے ہوئے ایمان کا اقرار کیا ، موسیٰ کے اور ہارون کے خدا پر ایمان لانے کا اقرار کیا اور بخشش مانگی تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ آئین یعنی بچانے کا ذکر کیا کہ مجھے بچالے اب کون سا وقت ہے اور پھر پکڑ آ گئی۔ پس یا د رکھنے کی بات ہے کہ ان دو انتہاؤں کے درمیان جو راہ اختیار کرنی ہے یہی دراصل وہ راہ ہے جسے پل صراط کہا جاتا ہے۔ ایک طرف یہ کامل یقین کہ خدا گناہ بخش سکتا ہے انسان کو مایوسی سے بچاتا ہے جو اپنی ذات میں ایک بہت بڑا گناہ ہے۔ جب بھی نصیحت آموز خطبات دیتا ہوں تو بعض احمد یوں کی طرف سے دنیا کے مختلف ممالک سے بڑی سخت پریشانی کا اظہار آتا ہے کہ ہم تو فلاں چیز میں ڈوبے ہوئے ہیں ہم نے اب کہاں بخشے جانا ہے یعنی توجہ پیدا ہوتی ہے گناہوں سے تو بہ کی مگر سمجھتے ہیں کہ اب ہمارا بخشش کا زمانہ گزر چکا ہے۔ یہ اپنی ذات میں ایک کفر ہے اور خدا تعالیٰ