خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 720
خطبات طاہر جلد 15 720 خطبہ جمعہ 13 استمبر 1996ء بڑھانے کا موجب بن جاتی ہے۔ اس صورت میں یہ مضمون پیدا ہو گا کہ بابر بہ عیش کوش که عالم دوباره نیست کہ تم عیش کر جاؤ جو کرنا ہے کیونکہ دوبارہ پھر اس عالم میں نہیں آنا ۔ تو ایک ہی مضمون ہے ایک حوالے کے ساتھ نیکی کی تعلیم دینے والا بن جاتا ہے ایک حوالے کے ساتھ بدی کی تعلیم دینے والا بن جاتا ہے۔ یہ دنیا میں جتنے بھی بدکردار لوگ یا حکومتیں ہیں ان کو یہ تو پتہ ہے کہ ہے بے ثباتی مگر مرنے کے بعد جی اٹھنے کا خیال نہیں ہے ، مرنے کے بعد حساب دینے کا خیال نہیں ہے اس لئے بابر بہ عیش کوش کی آواز ان کے دل سے اٹھتی ہے۔ عیش کر جاؤ پھر دوبارہ نہیں آنا دنیا میں ایک 66 ہی دفعہ جو کچھ ہونا ہے ہو جانا ہے جتنے دن ہیں مزے میں اڑا دو۔ لیکن اگر بے ثباتی کو جی اٹھنے کے بعد حساب کتاب کے ساتھ باندھا جائے تو ناممکن ہے کہ انسان اپنی اصلاح کی طرف متوجہ نہ ہو۔ ہر لمحہ وہ متوجہ ہو جائے گا اور اگر یہ یقین ہو کہ کسی لمحہ میں میں جا سکتا ہوں تو پھر تو اس کی زندگی کا سب سے بڑا مقصد اپنے اعمال پہ نظر رکھنا ہوگا ۔ وہ یہ دیکھتا رہے گا کہ میں اب بھی تیار ہوں کہ نہیں، اب تیار ہوں کہ نہیں ۔ آج اگر اس وقت جان جائے تو کسی حالت میں جان دوں گا۔ پس وہ جماعت جس نے سب دنیا کی اصلاح کا بیڑا اٹھایا ہے جس کے سپر د خدا نے یہ ذمہ داری فرما دی ہے ۔ کچھ اس میں دیکھا ہے تو خدا نے یہ ذمہ داری سپرد فرمائی ہے ورنہ ہر کس و ناکس کو تو یہ توفیق نہیں ملی۔ بہت بڑی ذمہ داری ہے اور بہت ہی بڑا انعام ہے۔ آسمان سے جو پانی حمدرسول الله ﷺ پر اتر اور آج جماعت احمدیہ کی روحانی زندگی میں اپنی نشو ونما کھارہا ہے اور سر سبزی دکھائی دے رہی ہے ، طراوت دکھائی دے رہی ہے، ہر قسم کی زندگی کی شکلیں ابھر رہی ہیں لیکن اگر ہم اس بات کو بھلا دیں کہ ہم اس کے جوابدہ ہیں اور مستغنی ہو جائیں ، یہ سمجھیں کہ گویا ہما را حق تھا ہم پر یہی ہونا تھا تو کسی وقت بھی جان ایسی حالت میں نکل سکتی ہے کہ ہاتھ میں کچھ بھی نہ رہا ہو اور انفرادی طور پر لازم نہیں کہ ایک نیک جماعت میں شامل ہو کر ہر فرد برابر فائدہ اٹھا سکے بلکہ ایسے بھی ہو الله سکتے ہیں کہ جن پر جتنا بڑا انعام ہوا تنا ہی بڑا نقصان اٹھا سکتے ہیں۔ سے بڑے مقاصد تو اجتماعی زندگی میں یہ کہنا کہ خدا تعالیٰ نے جماعت احمد یہ کو اپنے فضل کے لئے چنا ہے یہ ایک بات ہے مگر یہ کہ ہر شخص محفوظ اور مامون ہے یہ بالکل اور بات ہے۔ ہرگز ہر